خیبر پختونخوا میں لینڈ ریکارڈ نظام کی ڈیجیٹلائزیشن؛ ’ای فرد پورٹل‘ اور ڈیجیٹل پبلک فیڈ بیک نظام کا باقاعدہ اجراء، وزیرِ اعلیٰ کا متعلقہ حکام کو تعریفی اسناد سے نوازنا
پشاور (حسبان نیوز): وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے صوبے میں لینڈ ریکارڈ نظام کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کے سلسلے میں ایک تاریخی اور اہم پیش رفت کے طور پر 'ای فرد پورٹل' اور 'ڈیجیٹل پبلک فیڈ بیک نظام' کا باقاعدہ اجراء کر دیا ہے۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی قیادت نے واضح کیا کہ ان ڈیجیٹل اصلاحات کا بنیادی مقصد شہریوں کو زمین سے متعلق خدمات آسان، شفاف، تیز رفتار اور ان کی دہلیز پر فراہم کرنا ہے۔ اب شہریوں کو فرد کے حصول کے لیے ریونیو دفاتر اور پٹوار خانوں کے بار بار چکر لگانے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ وہ گھر بیٹھے یا قریبی مرکز سے باآسانی اپنی فرد حاصل کر سکیں گے۔ وزیرِ اعلیٰ نے لینڈ ریکارڈ میں ڈیجیٹل اصلاحات کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عوامی خدمات کی فراہمی میں رفتار، شفافیت اور سیکیورٹی مزید بہتر ہو گی۔
وزیرِ اعلیٰ کو دی گئی ایک تفصیلی بریفنگ میں بتایا گیا کہ 'ای فرد پورٹل' کے ذریعے کوئی بھی شہری سادہ، محفوظ اور خودکار طریقے سے فرد حاصل کر سکے گا۔ فرد کے اجراء کے لیے نادرا کی سہولت، ای ہنرمند مراکز، آفیشل ویب سائٹ کے سیلف سروس پورٹل اور 'دستک ایپ' کے ذریعے تین چینلز دستیاب ہوں گے۔ بریفنگ کے مطابق صرف نادرا سے بائیومیٹرک تصدیق شدہ صارفین ہی ای فرد ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے، جبکہ فرد کی فیس ون لنک اور ایزی پیسہ کے ذریعے الیکٹرانک طور پر سرکاری خزانے میں جمع ہو گی۔ فیس کی ادائیگی کے بعد فرد شہری کے اکاؤنٹ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ رہے گی اور اسے کسی بھی وقت دوبارہ ڈاؤن لوڈ کیا جا سکے گا۔ مزید برآں، فرد پر موجود کیو آر (QR) کوڈ کے ذریعے مرکزی اراضی ریکارڈ سے اس کی آن لائن تصدیق بھی لمحوں میں ممکن ہو گی۔
تقریب میں 'ڈیجیٹل پبلک فیڈ بیک نظام' کے طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا گیا کہ ریونیو خدمات حاصل کرنے والے شہریوں سے بے ترتیب (Random) بنیادوں پر اراضی ریکارڈ سینٹر کی جانب سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جائے گا۔ شہریوں کی آراء اور شکایات کو نظام میں درج کر کے ان کے اطمینان کو چار درجات میں ریکارڈ کیا جائے گا۔ غیر مطمئن شہریوں کی شکایات براہِ راست متعلقہ ڈپٹی کمشنر (DC) کے ڈیش بورڈ پر ظاہر ہوں گی، جس کے ذریعے ریونیو خدمات میں تاخیر، مسائل اور ناقص کارکردگی کی بروقت نشاندہی ممکن ہو گی۔ شہریوں کے اس فیڈ بیک کو ڈپٹی کمشنرز کے ماہانہ اجلاسوں میں اضلاع کی کارکردگی جانچنے کے لیے ایک اہم اشاریے (KPI) کے طور پر شامل کیا جائے گا۔ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اضلاع کی حوصلہ افزائی، جبکہ کمزور کارکردگی والے اضلاع سے سخت جواب طلبی کی جائے گی۔ وزیرِ اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان اصلاحات سے زمین سے متعلق شکایات میں نمایاں کمی آئے گی اور عوامی اعتماد مزید مستحکم ہو گا۔ تقریب کے اختتام پر وزیرِ اعلیٰ نے ڈیجیٹل اصلاحات کے اجراء میں اہم کردار ادا کرنے والے متعلقہ حکام کی کاوشوں کو سراہا اور انہیں تعریفی اسناد سے نوازا۔