حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کیلئے کم از کم 6 ممالک کی جانب سے دلچسپی کا اظہار: اسحاق ڈار Home / بین الاقوامی,پاکستان /

مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کیلئے کم از کم 6 ممالک کی جانب سے دلچسپی کا اظہار: اسحاق ڈار

ایڈیٹر - 03/10/2026
 مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کیلئے کم از کم 6 ممالک کی جانب سے دلچسپی کا اظہار: اسحاق ڈار

مکہ دفاعی معاہدہ کسی کے خلاف جارحانہ اقدام نہیں، 6 ممالک شمولیت کے خواہشمند، اگلے ہفتے سعودی عرب میں اہم ترین صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا: اسحاق ڈار

اسلام آباد (حسبان نیوز): پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے انکشاف کیا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کے لیے کم از کم 6 ممالک نے گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اسلام آباد میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اگلے ہفتے مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کی سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جس کے لیے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم ہونے والی 'اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی' (SPDC) کا ایک اہم ترین اجلاس آئندہ چند روز میں سعودی عرب میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔

نائب وزیرِ اعظم نے خطے کی تزویراتی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ایران نے یمن میں حوثیوں اور عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ حملوں سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ایران کا ان کارروائیوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ ان کی ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے اس حساس معاملے پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے، جس کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ نے یہ رائے دی کہ حوثیوں اور عراقی گروہوں پر براہِ راست فوجی حملے کرنے کے بجائے ان سے سیاسی اور سفارتی رابطے استوار کیے جائیں۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ نے ایران پر واضح کیا کہ مکہ معاہدہ ایک اہم دفاعی مہر ہے اور بطور مسلمان پاکستان اس کی پاسداری کرنے کا پابند ہے اور ہر صورت کرے گا۔ تاہم انہوں نے دنیا کو یقین دہانی کرائی کہ مکہ دفاعی معاہدے کی دستاویزات میں یہ واضح طور پر درج ہے کہ اس کی نوعیت خالصتاً دفاعی ہے اور اس کا کوئی بھی جارحانہ مقصد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اس معاہدے کا باقاعدہ سیکریٹریٹ مکمل طور پر فعال نہیں ہو جاتا، تب تک کسی بھی نئے ملک کی شمولیت کی درخواست پر عملدرآمد ممکن نہیں ہوگا، البتہ دیگر ممالک کے لیے اس معاہدے میں شامل ہونے کے راستے کھلے رکھے گئے ہیں۔