سیکیورٹی فورسز ملک دشمن عناصر اور انتشار پسندوں سے نمٹنے کیلئے الرٹ، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ تزویراتی شراکت داری کا مظہر ہے: کور کمانڈرز کانفرنس
راولپنڈی (حسبان نیوز): فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرِ صدارت جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں اہم ترین کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملکی سلامتی، داخلی استحکام، اور علاقائی و تزویراتی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ آئی ایس پی آر (ISPR) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واضح کیا ہے کہ عوام کی بھرپور حمایت کے ساتھ مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر لمحہ مکمل تیار ہیں۔ فورم نے مادرِ وطن کے دفاع کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے مثال قربانیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا اور شہدا کے لیے خصوصی فاتحہ خوانی کی گئی۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں دہشت گردی کے خلاف جاری مہم پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ فیلڈ مارشل نے ہدایات جاری کیں کہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کو مزید مضبوط اور مربوط بنایا جائے، جبکہ تمام فارمیشنز جدید ٹیکنالوجی کے حصول، اعلیٰ معیار کی ٹریننگ اور جنگی جہتوں کے انضمام کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل اپ گریڈ کرتی رہیں۔ فورم نے دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے زمینی فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بہترین انتظامی اور گورننس کے اقدامات کو ناگزیر قرار دیا۔ مزید برآں، افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ سرحد پار سے لاحق خطرات کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں پاکستان کا قانونی اور دفاعی حق ہیں۔ کانفرنس میں دوٹوک الفاظ میں کہا گیا کہ بھارت کے آلہ کار کے طور پر پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے سنگین نتائج کی تمام تر ذمہ داری صرف اور صرف افغان طالبان کی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔
داخلی سلامتی کے حوالے سے کانفرنس کے شرکا نے انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسی بھی قسم کے پرتشدد انتشار، بدامنی، یا 9 مئی جیسے حالات دوبارہ پیدا کرنے کی کوششوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ایسی تمام سازشوں سے ریاست کی مکمل فیصلہ کن طاقت اور قانون کی گرفت کے ذریعے بلاامتیاز اور بلاجھجک نمٹا جائے گا۔ فورم نے پولیس کی استعداد کار کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے داخلی استحکام اولین ترجیح ہے۔ اس کے ساتھ ہی، دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کے خاتمے اور مخصوص عناصر کے 'ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ' کو توڑنے کے لیے عوام کے ساتھ موثر رابطہ کاری اور مضبوط قومی بیانیے پر کام کرنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا گیا۔
خارجی اور بین الاقوامی محاذ پر، کور کمانڈرز کانفرنس نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی 'مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے' کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا۔ فورم نے اس معاہدے کو برادر اسلامی ممالک کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک تعلقات کی پائیداری اور مشترکہ دفاعی تعاون کے فروغ میں میل کا پتھر قرار دیا۔ کانفرنس کے شرکا نے سعودی عرب پر حوثی باغیوں کی جانب سے کیے جانے والے حملوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی، حرمین شریفین کے تحفظ اور اس کے تقدس کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کو دہرایا۔ آخر میں فورم نے مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔