حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ہمارا تعلیمی نظام تباہی کی طرف جا رہا ہے، صوبے نے تعلیمی ترجیحات کو پسِ پشت ڈال دیا: چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ Home / پاکستان /

ہمارا تعلیمی نظام تباہی کی طرف جا رہا ہے، صوبے نے تعلیمی ترجیحات کو پسِ پشت ڈال دیا: چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ

ایڈیٹر - 01/10/2026
ہمارا تعلیمی نظام تباہی کی طرف جا رہا ہے، صوبے نے تعلیمی ترجیحات کو پسِ پشت ڈال دیا: چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ

ہمارا تعلیمی نظام تباہی کی طرف جا رہا ہے، صوبے نے تعلیمی ترجیحات کو پسِ پشت ڈال دیا: چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ

پشاور (نیوز رپورٹر): چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے صوبے میں گرتے ہوئے تعلیمی معیار اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی مالی زبوں حالی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ اس وقت ہمارا تعلیمی نظام تباہی کی طرف جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے نے تعلیمی ترجیحات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے اور فنڈز کو دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ ریمارکس فاضل چیف جسٹس نے پشاور یونیورسٹی سے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی اسکالرشپ حاصل کرنے والے لافتحا اقبال سمیت 90 سے زائد طلبہ کے کیس کی سماعت کے دوران دیے۔

سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے خالد رحمان ایڈوکیٹ اور پشاور یونیورسٹی کے اسسٹنٹ رجسٹرار ریاض علی خان عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ کیا مسئلہ ہے کہ 90 سے زیادہ طلبہ کو ایچ ای سی اسکالرشپ کی مد میں رقم دی جانی ہے، پشاور ہائیکورٹ نے ان کی رٹ منظور کی لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا؟ جس پر اسسٹنٹ رجسٹرار نے عدالت کو بتایا کہ یونیورسٹی اس وقت شدید مالی خسارے کا شکار ہے، یہاں تک کہ گزشتہ ماہ بھی تنخواہیں 16 تاریخ کو دی گئیں اور رواں ماہ کی تنخواہوں کے لیے بھی فی الحال فنڈز موجود نہیں ہیں۔

چیف جسٹس نے یونیورسٹی انتظامیہ کو سخت آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ "آپ لوگوں نے پورے تعلیمی نظام کو خراب کیا ہے اور تعلیم کو دوسری ترجیح میں رکھا ہے، اس سے پتا چلتا ہے کہ ایک بوسٹن شہر میں سینکڑوں یونیورسٹیاں ہیں اور ہم پشاور کی قدیم یونیورسٹی کو نہیں سنبھال سکتے۔" فاضل عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کی ملکیت زمینوں پر ایسے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جو پانچ سو روپے کا کرایہ دیتے ہیں اور آگے اس زمین کو پانچ لاکھ روپے پر دیا ہوتا ہے، یہ ایک بڑا المیہ ہے۔

دورانِ سماعت اسسٹنٹ رجسٹرار نے موقف اپنایا کہ سال 2012 کے بعد سے یونیورسٹی میں کوئی نئی بھرتی نہیں کی گئی ہے اور فیکلٹی ممبران کی شدید کمی کا سامنا ہے، جبکہ حکومتوں کے پاس فنڈز نہ ہونے کے باعث طلبہ کے سمسٹرز کی فیسیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ اس سنگین مسئلے کا مستقل حل نکالنا ہوگا کیونکہ کروڑوں روپے مالیت کی یونیورسٹی کی زمینیں کوڑیوں کے دام پر دی جا رہی ہیں اور طلبہ فیسیں زیادہ ہونے کی وجہ سے داخلے لینے سے محروم ہو رہے ہیں۔ عدالت نے معاملے کی سنگینی کے پیشِ نظر کیس کی سماعت آئندہ تک ملتوی کر دی۔