حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین پردے کے پیچھے مذاکرات جاری، رانا ثنا اللہ کی تصدیق، کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا انتباہ
اسلام آباد (حسبان نیوز): وفاقی حکومت اور اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مابین جاری شدید سیاسی تناؤ کے درمیان بیک چینل رابطوں کا بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ خان نے تصدیق کی ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان 'آف دی ریکارڈ' مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے جس میں تمام تصفیہ طلب امور پر کھل کر گفتگو کی جا رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق جیو نیوز کے مروجہ پروگرام "کیپٹل ٹاک" میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ یہ مذاکرات آن ریکارڈ نہیں بلکہ پردے کے پیچھے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان آف دی ریکارڈ رابطوں کا بنیادی مقصد خیبر پختونخوا حکومت کو یہ باور کرانا ہے کہ وہ وفاق کے خلاف کسی بھی غیر قانونی اور غیر آئینی مہم جوئی سے خود کو فوری طور پر علیحدہ کرے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریکِ انصاف کے رہنما ان پسِ پردہ مذاکرات میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق وہ مطالبات نہیں دہراتے جو وہ عوامی سطح پر کرتے ہیں۔
وفاقی مشیر نے صوبائی حکومت کو شدید وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت پر چڑھائی کرنا کسی بھی صوبائی حکومت کا آئینی اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم کو موجودہ ملکی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دے دی گئی ہے اور اگر خیبر پختونخوا حکومت اپنے وفاق مخالف رویے پر بضد رہتی ہے، تو وفاق کے پاس آئینی طور پر صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے یا ہنگامی حالت (ایمرجنسی) لگانے کا پورا اختیار موجود ہے۔ انہوں نے نو منتخب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اپنے کارکنوں کو قانون کا احترام کرنے اور پولیس کے روکنے پر رکنے کی ہدایت کر دیں، تو کنٹینرز لگانے کی نوبت ہی نہ آئے۔
دوسری جانب، پروگرام میں موجود پی ٹی آئی کے سینئر رہنما ملک عامر ڈوگر نے مصالحتی رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت ایسا کوئی قدم اٹھانے کی خواہش مند نہیں ہے جس سے صوبائی حکومت کا خاتمہ ہو جائے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پی ٹی آئی قیادت بخوبی واقف ہے کہ کوئی بھی غیر آئینی قدم ان کے لیے 'ڈیتھ ٹریپ' (موت کا پھندا) ثابت ہو سکتا ہے، لیکن ان کے پاس مطالبات کے حق میں آواز اٹھانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں بچا۔ انہوں نے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے وفاقی حکومت سے سیاسی بڑے پن کا مظاہرہ کرنے کی پرزور اپیل کی۔