خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی اور سیاسی ہنگامی صورتحال، 450 اہم شخصیات کی نظر بندی پر غور، 1000 سے زائد گرفتاریاں متوقع
پشاور (حسبان میڈیا): خیبر پختونخوا میں ممکنہ سیاسی صورتحال اور سیکیورٹی چیلنجز کے پیشِ نظر صوبائی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑے پیمانے پر سیکیورٹی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ باوثوق سرکاری ذرائع کے مطابق صوبے کی اہم سیاسی شخصیات کو ان کے گھروں میں نظر بند کرنے کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ صوبے بھر میں 1000 سے زائد افراد کی ممکنہ گرفتاریوں کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق صوبے میں متوقع سیاسی سرگرمیوں اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ابتدائی طور پر 450 انتہائی اہم شخصیات کی نظر بندی کے ممکنہ امکانات پر انتظامات کا آغاز کیا گیا ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے ابھی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے، تاہم انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ افسران کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ گائیڈ لائنز جاری کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ 3 روز سیکیورٹی اور سیاسی نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، جس کے باعث تمام سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ آئندہ تین سے چار روز میں صوبے کے مختلف اضلاع میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مکمل اختیارات دینے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ محکمہ داخلہ اور پولیس کے پاس ان تمام افراد اور اہم سیکیورٹی رسک بننے والی شخصیات کا ڈیٹا مرتب کر لیا گیا ہے جن کے خلاف مختلف تھانوں میں پہلے سے ہی ایف آئی آرز درج ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، جن اہم شخصیات کو ان کے گھروں میں نظر بند یا حراست میں لیے جانے کے امکانات ہیں، ان کے ناموں کی فہرستوں کو فی الحال مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے ردعمل یا امن و امان کی صورتحال کو خراب ہونے سے روکا جا سکے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صوبے بھر کے اضلاع میں اپنی پوزیشنز مضبوط کر لی ہیں اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا احتجاجی تحریک کو روکنے کے لیے حکمت عملی وضع کر لی گئی ہے۔