اسلام آباد (حسبان نیوز): وفاقی وزیر برائے دفاع خواجہ محمد آصف نے سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی خودمختاری کے حوالے سے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے اور کسی بھی خطرے کی صورت میں پاکستان برادر اسلامی ملک کے دفاع کے لیے ہراول دستے کا کردار ادا کرے گا۔ عرب نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں وزیر دفاع نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور انہیں کھلی جارحیت قرار دیا۔
تفصیلات کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے انٹرویو میں کھل کر کہا کہ حوثی باغی سعودی عرب کے خلاف مسلسل جارحیت کا ارتکاب کر رہے ہیں اور پاکستان کسی بھی کشیدگی میں سعودی عرب کی مدد کے لیے ہمہ وقت موجود ہے۔ انہوں نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ خواہ کشیدگی حوثیوں کی جانب سے ہو یا کسی دوسرے ملک کی جانب سے، اگر سعودی عرب کی سیکیورٹی کو چیلنج کیا گیا تو پاکستان اپنے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اس کے دفاع میں سامنے آئے گا۔
دورانِ انٹرویو جب وزیر دفاع سے سعودی عرب میں موجود پاکستانی فوجیوں کی فضائی حملوں میں ممکنہ شرکت کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ تاہم، انہوں نے ایک اہم تزویراتی پیش رفت کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی فوجی صلاحیتیں اب سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے ایک نئے سہ فریقی دفاعی معاہدے کے تحت دستیاب ہوں گی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ وہ اس معاہدے کی تکنیکی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتے، لیکن اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ اس معاہدے کے تحت جو بھی وسائل ہمارے پاس موجود ہیں، وہ سب سعودی عرب کے دفاع کے لیے دستیاب ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع نے واضح کیا کہ حوثیوں کے خلاف کیے گئے کسی مخصوص حملے میں پاکستان کے شامل ہونے کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی سعودی عرب کی جانب سے اس قسم کی براہِ راست مدد کا کوئی مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بحیرہ احمر کے ساحل تک حوثیوں کے اپنے کنٹرول کو وسیع کرنے کے اقدام کو خطے کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور سعودی عرب پر حالیہ فضائی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔