لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کے دو گروپوں میں خونی تصادم، ایک قیدی جاں بحق، 4 زخمی، اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی قائم
لاہور (حسبان نیوز): صوبائی دارالحکومت لاہور کی سینٹرل جیل کوٹ لکھپت میں کچن کی بندش اور لنگر کی فراہمی کے معاملے پر قیدیوں کے دو گروپوں کے درمیان پرتشدد جھگڑا ہوا ہے۔ اس افسوسناک تصادم کے نتیجے میں تیز دھار آلے کے وار سے ایک قیدی جاں بحق جبکہ چار دیگر شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کے مابین جھگڑا لنگر کی تقسیم اور کچن بند ہونے کی وجہ سے شروع ہوا، جو دیکھتے ہی دیکھتے شدید تصادم کی شکل اختیار کر گیا۔ لڑائی کے دوران مخالف گروپ کی جانب سے تیز دھار آلے کا استعمال کیا گیا، جس سے 42 سالہ قیدی اشرف ولد برکت شدید زخمی ہوا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ مقتول قیدی اشرف تھانہ مانگا منڈی میں درج قتل کے ایک مقدمے میں قید کاٹ رہا تھا۔
تصادم میں زخمی ہونے والے چاروں قیدیوں کو فوری طور پر انتہائی سخت سیکیورٹی میں لاہور کے جنرل اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال کے طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ زیر علاج زخمیوں میں سے دو قیدیوں (بشمول فلک شیر) کی حالت انتہائی تشویشناک ہے اور ڈاکٹرز ان کی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ واقعے کے فوراً بعد آئی جی جیل خانہ جات میاں سالک جلال اور ایڈیشنل سیکریٹری پریزن رومان بورانہ بھاری پولیس نفری کے ہمراہ جنرل اسپتال پہنچے جہاں انہوں نے زخمیوں کی عیادت کی اور طبی سہولیات کی نگرانی کی۔
دوسری جانب سیکریٹری داخلہ پنجاب نے اس سیکیورٹی غفلت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے تین ڈی آئی جیز پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس کمیٹی میں ڈی آئی جی جیل خانہ جات لاہور محسن رفیق، شوکت فیروز اور نوید رؤف شامل ہیں جو جیل عملے اور زخمیوں کے بیانات قلمبند کر کے ذمہ داران کا تعین کریں گے۔ مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے تحریری رپورٹ موصول ہوتے ہی قانون کے مطابق باقاعدہ مقدمہ درج کر کے کارروائی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔