کراچی: ایک نئی اور چونکا دینے والی طبی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ موبائل اسکرین اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر زیادہ وقت گزارنے کا سحر بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق، اسکرین کا حد سے زیادہ استعمال بچوں کو حقیقی دنیا کے رشتوں سے کاٹ دیتا ہے، جس کے نتیجے میں ان میں ڈپریشن، خود اعتمادی کی شدید کمی، کھانے پینے کے رجحان کا خاتمہ اور چڑچڑاپن ایک معمول بن جاتا ہے۔ یہ رپورٹ والدین اور ماہرینِ تعلیم کے لیے ایک سنگین لمحہ فکریا ہے۔
طبی جریدے "جاما نیٹ ورک اوپن" میں شائع ہونے والی اس امریکی تحقیق میں 9 ہزار کے قریب کم عمر افراد کے ڈیٹا اور سروے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر جیسن ناگاٹا کے مطابق، 12 سال کی عمر میں اپنا اسمارٹ فون رکھنے والے بچوں میں ان ہم عمر بچوں کے مقابلے میں کھانے کے امراض (Eating Disorders) کا شکار ہونے کا امکان دگنا ہوتا ہے جن کے پاس اس عمر میں اپنا ذاتی فون نہیں ہوتا۔ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اسکرین ٹائم کی زیادتی بچوں کو کم عمری میں ہی منشیات اور الکحل جیسے منفی رجحانات کی طرف مائل کر سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون بچوں کو ایک ایسی ظاہری شکل و صورت پر مرکوز مواد تک آسان رسائی فراہم کرتا ہے، جہاں اکثر غیر صحت مندانہ رویوں اور پیغامات کو فروغ دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ناگاٹا نے خبردار کیا ہے کہ اسمارٹ فون صرف ایک آلہ نہیں بلکہ یہ بچوں کے لیے ڈیجیٹل دنیا کے مختلف قسم کے مواد اور تجربات تک براہِ راست رسائی کا ذریعہ ہے۔ اس لیے اب سوال صرف یہ نہیں کہ بچے کو فون دیا جائے یا نہیں، بلکہ یہ زیادہ اہم ہے کہ اسے کس عمر میں فون دیا جا رہا ہے اور اس کے سکرین ٹائم کو کیسے مانیٹر کیا جا رہا ہے۔