کراچی: صوبائی دارالحکومت کے علاقے منگھوپیر میں مہران سٹی ڈکیتی کی واردات کے دوران جاں بحق ہونے والے نوجوان روشم حسین کے قاتلوں کی گرفتاری کے بعد، گزشتہ 20 روز سے جاری احتجاج اور دھرنا باقاعدہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ مقتول کے لواحقین اور علاقہ مکینوں نے ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے منگھوپیر تھانے کے باہر طویل دھرنا دے رکھا تھا، جسے ملزمان کی باقاعدہ حراست کے بعد آج صبح ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق، کامیاب کارروائی کے دوران گرفتار کیے گئے مفرور ملزمان کو قانونی ضابطوں کے تحت مقتول روشم حسین کے والد کے سامنے پیش کیا گیا، جنہوں نے ملزمان کی حتمی شناخت کر لی ہے۔ مظاہرین کی جانب سے دھرنا ختم کیے جانے کے بعد منگھوپیر کی اہم شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے، جس سے علاقے میں طویل عرصے سے معطل مواصلاتی نظام بحال ہو گیا ہے۔
یاد رہے کہ کچھ روز قبل منگھوپیر مہران سٹی میں ہونے والی ایک ہولناک ڈکیتی کی واردات کے دوران، بے رحم ڈاکوؤں نے فائرنگ کر کے معصوم نوجوان روشم حسین کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ خاندانی ذرائع کے مطابق، مقتول کی نمازِ جنازہ آج شام بعد نمازِ عصر رمضان گوٹھ اجتماع گاہ کے قریبی گراؤنڈ میں ادا کی جائے گی، جس میں سیاسی، سماجی شخصیات اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد میں شرکت متوقع ہے۔