کوئٹہ / کراچی: کوئٹہ میں جاری چیف منسٹر گولڈ کپ فٹ بال ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے کراچی سے جانے والی ڈسٹرکٹ ویسٹ کی فٹ بال ٹیم اور بس کے دیگر مسافر مستونگ اور سریاب کے درمیانی علاقے میں رہزنوں کا شکار ہو گئے ہیں۔ مسلح ڈاکوؤں نے جدید اسلحے کے زور پر بس کو ایک گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا اور کھلاڑیوں سمیت تمام مسافروں کو لاکھوں روپے کی نقدی اور قیمتی موبائل فونز سے محروم کر دیا، جبکہ مزاحمت پر متعدد کھلاڑیوں اور مسافروں پر شدید تشدد بھی کیا گیا۔
ٹیم کے مینیجر ذوالفقار علی بھٹو کے مطابق، پاکستان فٹ بال کے زیرِ اہتمام 21 ستمبر سے 5 اکتوبر تک جاری رہنے والی اس چیمپئن شپ میں حصہ لینے کے لیے کراچی ویسٹ کی 20 رکنی ٹیم بس کے ذریعے کوئٹہ جا رہی تھی کہ درجن سے زائد نقاب پوش ڈاکوؤں نے گاڑی آگے کھڑی کر کے بس کو روکا۔ ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس لوٹ مار کے بعد جب متاثرہ مسافروں نے محض ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر قائم رینجرز چوکی پر تعینات اہلکاروں کو واقعے کی اطلاع دی، تو انہوں نے "حدود کا مسئلہ" قرار دے کر کارروائی سے معذرت کر لی۔ کوئٹہ پہنچنے پر ٹورنامنٹ انتظامیہ نے متبادل فنڈز فراہم کیے، جبکہ واقعے کی باقاعدہ رپورٹ بلوچستان کی وزیرِ کھیل کو جمع کرا کے کھلاڑیوں کے مالی نقصان کے ازالے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، سندھ فٹ بال ایسوسی ایشن کے صدر اعظم نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بلوچستان کی مخدوش صورتحال کے باعث سندھ کی آفیشل ٹیم سمیت پنجاب اور خیبر پختونخوا کی ٹیموں نے بھی اس ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں جانا جان داؤ پر لگانے کے مترادف ہے، اسی لیے تمام کلبوں کو بس یا ٹرین کے ذریعے سفر نہ کرنے کی سخت ہدایت کی گئی تھی، تاہم مذکورہ ٹیم نے خطرہ مول لیا اور اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔