اسلام آباد: وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کا آئینی آپشن وفاقی حکومت کے پاس موجود ہے، تاہم اس حوالے سے فی الوقت کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ جیو نیوز کے معروف پروگرام "جرگہ" میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کے طرزِ عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت آئینی دفعات کے تحت جن وجوہات اور بنیادوں پر کسی بھی صوبے میں گورنر راج نافذ کر سکتی ہے، خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت ان تمام شرائط پر پورا اترتی ہے۔ انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کو آئین اور قانون کے مروجہ اصولوں کے مطابق نہیں چلایا جا رہا، جس کے باعث گورنر راج کا آپشن خارج از امکان نہیں۔ اگرچہ ابھی اس پر فیصلہ ہونا باقی ہے، لیکن بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر یہ فیصلہ کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔
وفاقی دارالحکومت کی سکیورٹی اور احتجاجی سیاست کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کے مشیر نے واضح کیا کہ حکومت نے اسلام آباد میں احتجاج کے سلسلے کو مستقل بنیادوں پر ختم کرنے کا پالیسی فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اب کسی بھی سیاسی گروہ یا جماعت کو احتجاج کے بہانے اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امن و امان کے قیام کے لیے تمام ضروری آئینی اقدامات کیے جائیں گے۔