کراچی ( حسبان میڈیا): کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) نے نقیب اللہ محسود قتل کیس میں شواہد کی عدم دستیابی کی بنیاد پر سابق انسپکٹر امان اللہ مروت اور شعیب شوٹر سمیت تمام مفرور 7 پولیس اہلکاروں کو باقاعدہ بری کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی جنوری 2018 میں ہونے والے مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے کیس میں نامزد تمام 25 ملزمان عدالتوں سے بری ہو چکے ہیں۔ عدالت میں ہونے والی آخری سماعت کے دوران جج نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا۔
بری ہونے والے دیگر ملزمان میں گدا حسین، صداقت حسین، ریاض احمد، راجا شمیم اور محسن عباس شامل ہیں۔ ملزمان کے وکیل نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ استغاثہ گرفتار پولیس اہلکاروں کے خلاف کوئی بھی ایسا گواہ پیش کرنے میں ناکام رہا جس نے یہ بیان دیا ہو کہ یہ پولیس مقابلہ جعلی تھا، اسی لیے قانون کے مطابق ملزمان کو شک کا فائدہ ملنا چاہیے۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس ہائی پروفائل کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سمیت 18 پولیس افسران اور اہلکاروں کو پہلے ہی عدالت سے بریت مل چکی ہے۔ سابق ایس ایچ او شاہ لطیف ٹاؤن امان اللہ مروت سمیت یہ 7 پولیس اہلکار طویل عرصے سے مفرور تھے، جنہوں نے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے پچھلے فیصلے کے بعد خود کو قانون کے حوالے (سرینڈر) کیا تھا۔ واضح رہے کہ نقیب اللہ محسود کو جنوری 2018 میں کراچی کے مضافاتی علاقے میں ایک مبینہ مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا جس کے بعد ملک گیر سطح پر شدید احتجاجی لہر دوڑ گئی تھی۔