نیویارک (خصوصی نمائندہ، حسبان میڈیا): پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے تحریک انصاف کے احتجاجی شیڈول اور مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے نیویارک میں میڈیا اور ٹی وی انٹرویو کے دوران اہم گفتگو کی ہے۔ انہوں نے سخت سیاسی موقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف (PTI) اب کبھی بھی اسلام آباد کا رخ نہیں کر سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے اسلام آباد کو 'سومنات' سے تشبیہ دے رہے ہیں، لیکن یہ ان کی آخری کوشش ہوگی جس کے بعد وہ اس طرف آنے کے قابل نہیں رہیں گے، کیونکہ اسلام آباد ایک بڑی اسلامی اور ایٹمی ریاست کا دارالحکومت ہے اور اب یہ ایک فیصلہ کن معرکہ ہوگا۔
وزیر دفاع نے نیویارک میں صحافیوں کی جانب سے 'مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے' میں ایران کی ممکنہ شمولیت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا تفصیلی جواب دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران خطے کا ایک انتہائی اہم اور برادر ملک ہے، تاہم یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس میں کسی بھی ملک کے خلاف کوئی اقدام یا ارادہ شامل نہیں ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جو بھی ملک اس معاہدے میں شریک ہوگا، اس کا بنیادی مقصد خطے میں مستقل امن کا قیام اور تحفظ ہوگا۔
معاہدے کی آپریشنل تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت ایک باقاعدہ 'سیکریٹریٹ' قائم کیا جا رہا ہے۔ یہ سیکریٹریٹ ممکنہ طور پر اکتوبر 2026 کے اوائل میں پوری طرح فعال ہو جائے گا، جبکہ اس کے انتظامی اور بیوروکریٹک ڈھانچے کو مکمل طور پر کام شروع کرنے میں دو سے چار ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملکی سلامتی اور عوام کا تحفظ ہے۔