نیویارک (نیوز ڈیسک، حسبان میڈیا): اقوام متحدہ میں بین الاقوامی سلامتی اور عالمی معیشت کے حوالے سے ایک انتہائی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دنیا کے تقریباً 80 ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، اقوام متحدہ میں بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزائنی نے یہ اہم مشترکہ بیان پڑھ کر سنایا، جس میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں واشگاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے اقدامات بین الاقوامی سلامتی، جہاز رانی کے حقوق اور عالمی آزادیوں کے لیے ایک مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ بیان میں خطے میں تجارتی بحری جہازوں پر ہونے والے مسلسل حملوں اور بین الاقوامی تجارت میں خلل ڈالنے پر ایران اور اس کے اتحادی حوثیوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ اس مشترکہ اعلامیے کو خلیجی عرب ریاستوں اور بڑی مغربی طاقتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے، جو عالمی توانائی کی سپلائی لائن کو محفوظ بنانے کے لیے متحد نظر آتی ہیں۔
اعلامیے میں یمن کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ یمن میں تنازع کو دوبارہ شروع کرنے کے حوثیوں کے فیصلے قابلِ قبول نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، سعودی عرب پر ہونے والے مسلسل حملوں اور بحیرہ احمر (Red Sea) میں تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں کی بھی پرزور مذمت کی گئی ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق، اتنی بڑی تعداد میں ممالک کا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا ایران پر سفارتی اور اقتصادی دباؤ میں شدید اضافے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔