اسلام آباد ( حسبان میڈیا): ملک کی سیاسی فضا میں ایک بڑی آئینی و سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کو ایک اور باضابطہ مکتوب ارسال کرتے ہوئے براہ راست مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس مکتوب کا بنیادی مقصد چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کے نئے ارکان کی تقرری کے حوالے سے آئینی مشاورت کو آگے بڑھانا اور دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک اہم ملاقات طے کرنا ہے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان (TTAP) اور اپوزیشن کے مرکزی ترجمان اخوانزادہ حسین یوسف زئی نے وزیراعظم کا مکتوب موصول ہونے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ تاہم، ترجمان نے اپنے ایک بیان میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ماضی میں ہونے والی ملاقاتوں اور طے پانے والے وعدوں سے انحراف کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن اس خط کا جائزہ لے رہی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے درمیان الیکشن کمیشن کی آئینی اسامیوں پر تقرری کے حوالے سے خط و کتابت کا تبادلہ ہو چکا ہے۔ آئین پاکستان کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تقرری کے لیے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان باضابطہ مشاورت لازمی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ دونوں اطراف سے آئینی ڈیڈ لاک ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن موجودہ سیاسی تناؤ کے باعث حتمی اتفاق رائے کا حصول اب بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔