خیبرپختونخوا حکومت بوکھلاہٹ کا شکار، پولیس کو غلام یا ٹائیگر فورس نہیں بننے دیں گے، گورنر فیصل کریم کنڈی
پشاور ( حسبان میڈیا): گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور یہ اتنی نااہل انتظامیہ ہے کہ ان کے پاس اب تک کوئی مستقل صوبائی وزیرِ داخلہ تک موجود نہیں۔ پشاور میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین کسی بھی قسم کے پسِ پردہ یا 'بیک ڈور' مذاکرات کی افواہوں کو سختی سے مسترد کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں آئینی طور پر گورنر راج کا آپشن موجود ہے اور اگر صدرِ مملکت اور وفاقی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر یہاں گورنر راج نافذ کیا جائے، تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہوگی اور نہ ہی پھر کسی دوسری بات کی ضرورت رہے گی۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کے اسلام آباد احتجاجی مارچ کے حوالے سے ہائیکورٹ کے احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا واضح آرڈر ہے کہ سیاسی مقاصد کے لیے سرکاری وسائل استعمال نہ کیے جائیں، لیکن یہ لوگ سرکاری وسائل پر اپنی پارٹی چلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ پی ٹی آئی قیادت اپنے ذاتی اور جماعتی مفادات کے لیے وفاقی دارالحکومت جا رہی ہے نہ کہ کسی سرکاری کام کے لیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر جگہ سے صوبے کو فنڈز آ رہے ہیں لیکن یہ اپنے فنڈز بھی کھا جاتے ہیں، یہ احتجاج کے دوران اپنے صوبے کی سرحد (بارڈر) بھی پار نہیں کر سکیں گے، چاہے یہ ڈی چوک کے باہر الٹا ہی کیوں نہ لٹک جائیں، ان کا لیڈر اس طرح آزاد نہیں ہو سکتا۔
صوبائی کابینہ کی جانب سے منظور کیے گئے 'پولیس ایکٹ 2026' پر بات کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ پی ٹی آئی ماضی میں پولیس کو غیر سیاسی کرنے کا بیانیہ رکھتی تھی، لیکن موجودہ اقدامات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ پولیس ان کی غلام بن جائے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ خیبرپختونخوا پولیس کو کسی صورت 'ٹائیگر فورس' بننے نہیں دیں گے کیونکہ موجودہ صوبائی حکومت آئی جی اور پوری پولیس فورس کو اپنے تابع کرنا چاہتی ہے۔ گورنر نے واضح کیا کہ پولیس ایکٹ کا مسودہ جب باقاعدہ منظوری کے لیے میرے پاس آئے گا تو میں اس کا باریک بینی سے جائزہ لوں گا، اور اگر اس ایکٹ میں کوئی بھی شق آئینِ پاکستان کے خلاف پاتی گئی تو اس پر فوری طور پر آئینی اعتراضات عائد کر دیے جائیں گے۔