حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پی ٹی آئی کا حکومت سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار؛ محمود خان اچکزئی اور اپوزیشن قیادت بات چیت کے لیے تیار۔ Home / سیاست /

پی ٹی آئی کا حکومت سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار؛ محمود خان اچکزئی اور اپوزیشن قیادت بات چیت کے لیے تیار۔

ایڈیٹر - 24/09/2026
پی ٹی آئی کا حکومت سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار؛ محمود خان اچکزئی اور اپوزیشن قیادت بات چیت کے لیے تیار۔

سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے پی ٹی آئی اور محمود خان اچکزئی مذاکرات پر آمادہ، حکومتی سنجیدگی پر سوالات

اسلام آباد ( حسبان میڈیا): پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے ملک کو موجودہ سیاسی و آئینی بحران سے نکالنے کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ باضابطہ بات چیت پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت اور اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی حکومت سے مذاکرات کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور انہیں بخوبی علم ہے کہ معاملات کو سلجھانے کے لیے کس مقتدر حلقے یا فریق سے بات کرنی ہے۔ تاہم، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بدقسمتی سے دونوں اطراف کے درمیان کوئی رابطہ یا بات چیت نہیں ہو رہی، کیونکہ حکومتی صفوں میں اس وقت ملکی مسائل کو سنجیدگی سے ختم کرنے کی سوچ ہی موجود نہیں ہے۔

خیبر پختونخوا میں ممکنہ گورنر راج کی افواہوں اور سیاسی کشیدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ صوبے میں باضابطہ اعلان سے پہلے ہی عملاً ’گورنر راج‘ نافذ ہو چکا ہے، جہاں صوبائی حکومت کے اختیارات کو محدود کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف کی جانب سے بات چیت کی یہ آمادگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے مابین مختلف پارلیمانی محاذوں پر سخت ترین تناؤ پایا جاتا ہے۔

دوسری جانب، سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف اور مجلس وحدت مسلمین (MWM) کے سربراہ سینیٹر راجہ ناصر عباس نے بھی ملکی استحکام کے لیے ایک اہم حل پیش کیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو درپیش سنگین مسائل اور سیاسی ڈیڈ لاک سے نکالنے کا واحد حل بانی پی ٹی آئی عمران خان سے براہِ راست ملاقاتیں کروانا ہے۔ انہوں نے ایک سنسنی خیز دعویٰ بھی کیا کہ اگر ماضی میں حکومت یا کسی مقتدر حلقے کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات یا ملاقات کا کوئی پیغام دیا بھی گیا تھا، تو وہ پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع یا کسی اور وجہ سے ان تک (بانی پی ٹی آئی تک) پہنچنے ہی نہیں دیا گیا، جس نے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔