حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
گاڑی اور ذاتی گھر کا خواب دکھا کر شہریوں کو لوٹنے والا بڑا نیٹ ورک بے نقاب۔ Home / پاکستان /

گاڑی اور ذاتی گھر کا خواب دکھا کر شہریوں کو لوٹنے والا بڑا نیٹ ورک بے نقاب۔

ایڈیٹر - 24/09/2026
گاڑی اور ذاتی گھر کا خواب دکھا کر شہریوں کو لوٹنے والا بڑا نیٹ ورک بے نقاب۔

کراچی: سوشل میڈیا کے ذریعے گاڑیوں اور گھروں کے نام پر منظم فراڈ، درجنوں شہری لاکھوں روپے سے محروم، پولیس کی کارروائیوں پر سوالات

کراچی (حسبان میڈیا): کراچی میں اپنی گاڑی اور ذاتی گھر کا خواب دیکھنے والے متوسط طبقے کے سینکڑوں افراد کو سوشل میڈیا کے ذریعے منظم طریقے سے نشانہ بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔ جیو نیوز کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، ڈیفنس، گلشنِ اقبال اور فیڈرل بی ایریا جیسے پوش علاقوں میں قائم جعلی کمپنیوں نے پرکشش اشتہارات کے ذریعے شہریوں کو لوٹنے کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ گزری تھانے میں درج مقدمے کے مدعی سید طحہٰ نواز نے بتایا کہ انہوں نے گاڑی کے لیے ایک اشتہار دیکھ کر ڈیفنس میں قائم کمپنی کے دفتر سے رجوع کیا، جہاں انہیں مرضی کی پرانی گاڑی دینے کا جھانسا دے کر فرضی قیمت کا 20 فیصد ڈاؤن پیمنٹ وصول کیا گیا اور دو ضامنوں (Garunters) کی شرط پر اسٹیمپ پیپر پر معاہدہ سائن کرایا گیا۔

معاہدے کے مطابق 6 دن میں کیس منظور کر کے گاڑی دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم 5 دن بعد ہی ضامن کے ڈیفالٹر ہونے کا بہانہ بنا کر کیس ریفنڈ میں بھیجنے کا میسج کر دیا گیا۔ جب متاثرہ شہری نے دفتر کا رخ کیا تو انہیں مبہم معاہدے کی وہ شق دکھائی گئی جس کے تحت رقم 3 ماہ بعد واپس ہونی تھی، جس کے بعد وہ مہینوں چکر کاٹتے رہے لیکن رقم واپس نہ مل سکی۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کچھ لڑکے لڑکیوں کو گرفتار تو کیا لیکن انہیں معصوم قرار دے کر چھوڑ دیا، جبکہ دیگر ملزمان ضمانتیں کروا کر اب شہر کے دوسرے علاقوں میں نئے ناموں سے دفاتر کھول کر دوبارہ شہریوں کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق لٹنے والے متعدد شہریوں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں جن میں سمیر سے ساڑھے 4 لاکھ، عمران سے 6 لاکھ 40 ہزار، ونیش سے ساڑھے 5 لاکھ، عبدالمعین سے 4 لاکھ، اور راشد، چنگیز، جمشید، فوزیہ، فصیح، بلال و عدنان سے لاکھوں روپے کا فراڈ کیا جا چکا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منظم گروہ کے مرکزی کارندوں میں محمد وسیم، حافظ مرتضیٰ، مدیحہ انصاری اور شیان عرف احمد شامل ہیں جن کے خلاف متعدد مقدمات درج ہیں۔ یہ گروہ سوشل میڈیا پر درجنوں جعلی اکاؤنٹس بنا کر آپریٹ کرتا ہے اور فراڈ کا بھانڈا پھوٹنے پر راتوں رات کمپنیوں کے نام اور مقامات تبدیل کر لیتا ہے، جس کے باعث ان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی اب تک خواب بنی ہوئی ہے۔