حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں مردہ بچیوں کی قبروں کی مبینہ بے حرمتی کے مقدمے میں زیرِ حراست 19 سالہ ملزم سلمان پولیس ٹیم پر مسلح حملے کے دوران ہلاک ہوگیا، جبکہ فائرنگ کرنے والے 6 نامعلوم افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
پولیس حکام کے مطابق ملزم سلمان کو تفتیش کے سلسلے میں شواہد اکٹھے کرنے اور مختلف وارداتوں کے مقامات کی نشاندہی کے لیے لے جایا جارہا تھا کہ راستے میں 3 موٹر سائیکلوں پر سوار 6 مسلح افراد نے پولیس پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے اچانک فائرنگ کردی۔
پولیس کے مطابق حملہ اتنا اچانک تھا کہ زیرِ حراست ملزم سلمان فائرنگ کی زد میں آکر موقع پر ہی ہلاک ہوگیا، تاہم پولیس اہلکار محفوظ رہے۔
فائرنگ کے بعد حملہ آور اسلحہ لہراتے ہوئے موقع سے فرار ہوگئے۔ پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے، جبکہ فرار ہونے والے افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں کی جارہی ہیں۔
ایس پی صدر فدا حسین نے 2 روز قبل پریس کانفرنس میں سلمان کی گرفتاری کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ ملزم قبرستان میں قبریں کھود کر مردہ بچیوں کی لاشیں نکالتا اور ان کی مبینہ بے حرمتی کرتا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم کو ایک واردات کے دوران قبرستان کے چوکیدار نے مقامی افراد کی مدد سے پکڑا، جس کے بعد اسے پولیس کے حوالے کردیا گیا۔
فدا حسین کے مطابق تفتیش کے دوران ملزم پر الزام تھا کہ وہ قبروں سے بچیوں کی لاشیں نکالنے کے بعد انہیں صاف کرتا، کپڑے پہناتا اور پھر ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرتا تھا۔
ایس پی صدر کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت سلمان ولد افغان کے نام سے ہوئی تھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان کا شہری تھا اور کچھ عرصے سے باڑہ قدیم میں رہائش پذیر تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم کی عمر 19 سال اور تعلیمی قابلیت 12ویں جماعت تھی، جبکہ وہ ایک عرصے سے اس نوعیت کی مبینہ وارداتوں میں ملوث تھا۔
پولیس حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ دورانِ تفتیش سلمان نے 10 قبروں کی مبینہ بے حرمتی اور 4 مردہ بچیوں کے ساتھ زیادتی کا اعتراف کیا، جس کے بعد اس کے خلاف قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
اب ملزم کی ہلاکت کے بعد پولیس نے حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں کارروائیاں مزید تیز کردی ہیں۔