حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ٹرمپ کا ایران سے متعلق بڑا اعلان، معاہدہ یا تباہی؟ اقوام متحدہ میں کئی عالمی معاملات پر کھل کر بات کی Home / بین الاقوامی /

ٹرمپ کا ایران سے متعلق بڑا اعلان، معاہدہ یا تباہی؟ اقوام متحدہ میں کئی عالمی معاملات پر کھل کر بات کی

ایڈیٹر - 23/09/2026
ٹرمپ کا ایران سے متعلق بڑا اعلان، معاہدہ یا تباہی؟ اقوام متحدہ میں کئی عالمی معاملات پر کھل کر بات کی

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے جوہری پروگرام پر ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کیا اور کہا ہے کہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم ان کے بقول ایران کے ساتھ معاہدے کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو ایران کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کرنا ہے کہ آیا تہران کے ساتھ معاہدہ کیا جائے یا پھر ایسی کارروائی کی جائے جس کے تباہ کن نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے پاس دو راستے ہیں، وہ معاہدے کے ذریعے دوبارہ تعمیر اور ترقی کی طرف بڑھ سکتا ہے یا ایسی صورت حال کا سامنا کرسکتا ہے جس میں بقا، مستقبل اور آنے والی نسلوں کے لیے امید باقی نہ رہے۔

امریکی صدر نے سخت بیان کے باوجود دعویٰ کیا کہ انہیں توقع ہے کہ ایران بالآخر امریکا کے ساتھ معاہدہ کرلے گا۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ امریکا میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد بھی ہوسکتا ہے۔

ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کا مطالبہ

ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ ایران کو اقتصادی طور پر تنہا کرنے کے لیے امریکا کا ساتھ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تہران کے خلاف اقتصادی پابندیاں اس وقت تک جاری رہنی چاہئیں جب تک ایران تجارتی جہازوں پر حملے روکنے، اپنے جوہری عزائم ترک کرنے اور دہشت گردی کی حمایت ختم کرنے پر آمادہ نہیں ہوجاتا۔

امریکی صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کا انتظار کررہا ہے، تاہم ان کے بقول وہ اقتدار میں برقرار رہیں گے اور ان کے پاس ابھی ڈھائی سال باقی ہیں۔ امریکا میں وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہونے ہیں۔

غزہ میں جنگ اور حماس کی سرنگوں کا ذکر

غزہ کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہاں جنگ اب بھی جاری ہے اور حماس کی سرنگیں موجود ہیں۔ انہوں نے غزہ کے لیے قائم کیے گئے امدادی بورڈ کے لیے اربوں ڈالر کی فراہمی کا بھی خیرمقدم کیا۔

امریکی صدر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنے تعلقات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے 8 جنگوں کو رکوانے میں کردار ادا کیا۔

انہوں نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے انہیں شاندار قرار دیا اور کہا کہ پاکستانی وزیراعظم کے مطابق امریکی صدر کی کوششوں سے 30 ملین افراد کی جانیں بچیں۔

روس اور یوکرین جنگ ختم کرانے کا عزم

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا دونوں ممالک کی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع ختم کرانے کے لیے کام کررہے ہیں اور بالآخر یہ جنگ ختم ہوجائے گی۔

کیوبا اور وینزویلا پر بھی سخت مؤقف

کیوبا کے بارے میں امریکی صدر نے اسے ناکام ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا وہاں بنیادی تبدیلی چاہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کیوبا سے متعلق مذاکرات کی نگرانی کررہے ہیں۔

وینزویلا کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا مغربی نصف کرہ میں اپنے مفادات کو لاحق خطرات برداشت نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق ضرورت پڑنے پر امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت پر تنقید

ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ عدالت سے علیحدگی اختیار کریں۔

مصنوعی ذہانت میں سبقت کا دعویٰ

مصنوعی ذہانت کے میدان میں امریکی برتری کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس شعبے میں چین سے آگے ہے اور ان کی حکومت مصنوعی ذہانت کی ترقی پر پابندیاں عائد نہیں کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں وہی ملک کامیاب ہوگا جو ’’سپر انٹیلیجنس‘‘ کے میدان میں سبقت حاصل کرے گا۔ انہوں نے امریکی سرکاری دستاویزات میں مصنوعی ذہانت کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح کے بجائے ’’سپر انٹیلیجنس‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔

گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے کا اعلان

امریکی صدر نے گرین لینڈ میں فوجی موجودگی بڑھانے کا بھی عندیہ دیا۔ ان کے مطابق امریکا گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی سے متعلق ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ معاہدے کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے تحت 2 مقامات پر امریکی فوجی موجودگی قائم یا بحال کی جاسکتی ہے۔

ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے آغاز میں اپنی حکومت کے دوسرے دور کی کارکردگی کو بھی سراہا اور دعویٰ کیا کہ امریکا ایک ’’تاریک دور‘‘ سے نکل کر ’’سنہری دور‘‘ میں داخل ہوچکا ہے۔