حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
اردوان کی تقریر کے دوران اسرائیلی وفد کا اچانک واک آؤٹ، اقوام متحدہ میں کیا ہوا؟ Home / بین الاقوامی /

اردوان کی تقریر کے دوران اسرائیلی وفد کا اچانک واک آؤٹ، اقوام متحدہ میں کیا ہوا؟

ایڈیٹر - 23/09/2026
اردوان کی تقریر کے دوران اسرائیلی وفد کا اچانک واک آؤٹ، اقوام متحدہ میں کیا ہوا؟

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک):اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ترک صدر رجب طیب اردوغان کی غزہ اور فلسطین کے معاملے پر سخت تنقید کے دوران اسرائیلی وفد اجلاس سے واک آؤٹ کرگیا، جبکہ فلسطینی وفد نے ترک صدر کی تقریر کا تالیاں بجا کر خیرمقدم کیا۔

نیویارک میں جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب اردوغان نے غزہ کی صورتحال، مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سمیت متعدد امور پر گفتگو کی۔ ان کی تقریر کے دوران اسرائیل کے اقوام متحدہ میں مندوب ڈینی ڈینن سمیت اسرائیلی سفارت کار اپنی نشستوں سے اٹھ کر ہال سے باہر چلے گئے۔

رجب طیب اردوغان نے کہا کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی معاونت سے جنگ بندی کے لیے کردار ادا کیا گیا، تاہم ان کے بقول جنگ بندی کے باوجود غزہ میں 1,300 سے زائد شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

ترک صدر نے دعویٰ کیا کہ حماس اور دیگر فلسطینی گروہ جنگ بندی کے فریم ورک کے دوسرے مرحلے کو قبول کرچکے ہیں، تاہم ان کے مطابق اسرائیلی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آبادکاروں کے تشدد اور قبضوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

رجب طیب اردوغان نے غزہ کی صورتحال کو موجودہ دور کا انتہائی سنگین انسانی بحران قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فلسطین کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے اور اسرائیل پر جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اسرائیلی کارروائیوں کو نسل کشی کے حوالے سے بھی بیان کیا، جبکہ اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

ترک صدر نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ 81 سال قبل عالمی امن اور استحکام کے لیے قائم ہونے والا ادارہ فلسطین، لبنان اور سوڈان جیسے تنازعات میں اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا نہیں کر پارہا۔

انہوں نے فلسطینی صدر محمود عباس کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت نہ کرنے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ محمود عباس کو امریکا کی جانب سے ویزا نہ ملنے کے باعث مسلسل دوسرے سال نیویارک جانے کی اجازت نہیں دی گئی، تاہم اقوام متحدہ نے انہیں ویڈیو کے ذریعے اجلاس سے خطاب کی اجازت دی ہے۔

رجب طیب اردوغان نے کہا کہ محمود عباس کی اجلاس میں جسمانی موجودگی نہ ہونے کے باوجود ترکیہ آزاد اور خودمختار فلسطین کی آواز بلند کرتا رہے گا۔

ترک صدر نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کا بھی ذکر کیا اور یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت برقرار رکھتے ہوئے جنگ کے خاتمے پر زور دیا۔