ملتان: جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی ذاتی درخواست اور وطن واپسی پر مذاکرات کی یقین دہانی کے بعد اسلام آباد کی جانب طے شدہ لانگ مارچ عارضی طور پر مؤخر کرنے کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ملتان میں جماعت اسلامی کے صوبائی و مرکزی رہنماؤں کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ ان کی جماعت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر احتجاج اور لانگ مارچ کے فیصلے سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ لانگ مارچ سے قبل حکومتی وزرا کے ساتھ مذاکرات کے 3 سے 4 دور ہوئے، تاہم حکومت کی جانب سے دیا جانے والا ریلیف انتہائی ناکافی ہے جس کے باعث احتجاجی تحریک سے دستبرداری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے جماعت اسلامی کی قیادت سے خود رابطہ کر کے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے اور کہا ہے کہ وہ جوں ہی وطن واپس آئیں گے، جماعت اسلامی کے وفد سے ملاقات کر کے پیٹرولیم لیوی سمیت تمام تحفظات پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔ امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ پارٹی کی اعلیٰ شوریٰ اور طویل مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم کی واپسی پر ان سے بات چیت کا موقع ضرور دیا جائے گا، تاہم اس بار حکومت سے زبانی دعووں کے بجائے باقاعدہ تحریری یقین دہانی لی جائے گی۔ انہوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کا بہانہ بنا کر عوام کو مہنگائی کی آگ میں نہیں جھونکا جا سکتا؛ اگر حکومت پیٹرول پر عائد ناجائز ٹیکسز اور لیوی ختم کر دے تو جماعت اسلامی آج ہی اپنا دھرنا ختم کرنے کو تیار ہے۔