حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں کی جانب سے تربیلا اور ورسک ڈیمز سے بجلی کی فراہمی جبکہ ضلع کرک سے حاصل ہونے والی گیس کی ترسیل روکنے سے متعلق بیانات کے بعد ان قومی توانائی منصوبوں کی اہمیت ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی فضل الٰہی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ان کے پاس موجود مختلف آپشنز کو کارکنوں اور صوبائی حکومت کی حمایت حاصل ہوجائے تو وہ اپنے مقاصد حاصل کرسکتے ہیں۔ ان کے بیان کے بعد پارٹی کے رہنما اقبال آفریدی نے بھی ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرکے دکھایا جائے گا۔
پاکستان تحریک انصاف کے ان رہنماؤں کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں موجود ڈیموں اور گیس کے ذخائر کو وفاق پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
تاہم تربیلا، ورسک اور کرک کے توانائی منصوبوں کی اہمیت محض صوبائی حدود تک محدود نہیں۔ ان کا تعلق ملک کے بجلی، آبپاشی، صنعت اور توانائی کے مجموعی نظام سے ہے، جس کے باعث ان منصوبوں سے متعلق کسی بھی بڑے فیصلے کے اثرات وسیع پیمانے پر مرتب ہوسکتے ہیں۔
دریائے سندھ پر خیبرپختونخوا میں قائم تربیلا ڈیم پاکستان کے اہم ترین کثیرالمقاصد آبی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی اہمیت پانی ذخیرہ کرنے، زرعی ضروریات پوری کرنے اور بجلی پیدا کرنے سے جڑی ہوئی ہے۔
تربیلا کا ذخیرہ ملک کے نہری نظام کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ڈیم میں محفوظ پانی ضرورت کے مطابق دریائے سندھ میں چھوڑا جاتا ہے، جس کے بعد یہ پانی نہروں کے ذریعے زرعی علاقوں تک پہنچتا ہے۔
چونکہ پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے، اس لیے تربیلا کا پانی براہ راست فصلوں، کسانوں کی آمدنی اور غذائی پیداوار سے جڑتا ہے۔ گندم، چاول، گنا اور کپاس سمیت متعدد فصلوں کے لیے آبپاشی کا یہ نظام بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
تربیلا بجلی کی پیداوار میں بھی ملک کے بڑے ذرائع میں شامل ہے۔ واپڈا کے مطابق 2025 میں تربیلا ہائیڈل پاور اسٹیشن نے 14.3 ارب یونٹ جبکہ تربیلا فورتھ ایکسٹینشن نے 5.6 ارب یونٹ بجلی پیدا کی۔
اسی عرصے میں واپڈا کے 22 پن بجلی گھروں سے مجموعی طور پر 33.12 ارب یونٹ بجلی پیدا ہوئی، جو ملک کی مجموعی بجلی پیداوار کا تقریباً 30 فیصد بنتی ہے۔
تربیلا کمپلیکس کی صلاحیت مستقبل میں مزید بڑھانے کا منصوبہ بھی جاری ہے۔ واپڈا کے مطابق تربیلا ففتھ ایکسٹینشن ہائیڈرو پاور منصوبے کی پیداواری صلاحیت 1530 میگاواٹ ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد تربیلا کمپلیکس کی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 4888 میگاواٹ سے بڑھ کر 6418 میگاواٹ ہوجائے گی۔
واپڈا کے مطابق اس توسیعی منصوبے سے سالانہ تقریباً 1.466 ارب یونٹ اضافی کم لاگت بجلی حاصل ہونے کی توقع ہے۔
پشاور کے قریب دریائے کابل پر قائم ورسک ڈیم بھی خیبرپختونخوا کے اہم آبی اور پن بجلی منصوبوں میں شامل ہے۔
واپڈا کے مطابق ورسک ہائیڈرو الیکٹرک منصوبہ پشاور سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اسے کولمبو منصوبے کے تحت کینیڈا کے تعاون سے تعمیر کیا گیا تھا۔
منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں 1960-61 کے دوران 40 میگاواٹ کے 4 یونٹ نصب کیے گئے، جبکہ بعد میں مزید 2 یونٹ شامل کیے گئے۔ یوں اس کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 242.96 میگاواٹ تک پہنچ گئی، اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی عملی پیداواری صلاحیت کم ہوئی ہے۔
ورسک ڈیم کی اہمیت بجلی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ آبپاشی میں بھی ہے۔ واپڈا کے مطابق اس کے ذخیرے میں تقریباً 25,300 ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، جبکہ منصوبہ تقریباً 119,000 ایکڑ اراضی کو آبپاشی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
پشاور اور اس کے گردونواح کے لیے ورسک کی جغرافیائی حیثیت بھی اسے اہم بناتی ہے۔ تربیلا کے مقابلے میں اس کا حجم کم ہے، لیکن مقامی سطح پر پانی اور بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں اس کا کردار نمایاں ہے۔
تربیلا اور ورسک کا تعلق بنیادی طور پر پانی اور پن بجلی سے ہے، جبکہ ضلع کرک کی اہمیت پاکستان کے مقامی تیل اور گیس کے ذخائر سے وابستہ ہے۔
کرک کے نشپہ علاقے میں تیل اور گیس کی پیداوار ملک کے ہائیڈروکاربن شعبے کا اہم حصہ ہے۔ او جی ڈی سی ایل کے مطابق نشپہ آئل اینڈ گیس پروسیسنگ اور ایل پی جی ریکوری منصوبے میں روزانہ 18,400 بیرل تیل، 98 ملین مکعب فٹ گیس، 370 میٹرک ٹن ایل پی جی اور 1,100 بیرل این جی ایل پیدا کرنے کی ڈیزائن صلاحیت موجود رہی ہے۔
مقامی سطح پر پیدا ہونے والی گیس پاکستان کی مجموعی توانائی ضروریات میں حصہ ڈالتی ہے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مددگار ہوسکتی ہے۔
قدرتی گیس صرف گھریلو صارفین تک محدود نہیں بلکہ بجلی گھروں، کھاد سازی، صنعتی یونٹس اور مختلف کاروباری شعبوں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ اسی لیے کسی بڑے گیس منصوبے کی پیداوار میں رکاوٹ کا اثر توانائی کے مختلف شعبوں تک پہنچ سکتا ہے۔
او