حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
دنیا میں کچھ بھی ہو، پاکستان سے تعلقات مزید مضبوط کریں گے: چینی قونصل جنرل Home / پاکستان /

دنیا میں کچھ بھی ہو، پاکستان سے تعلقات مزید مضبوط کریں گے: چینی قونصل جنرل

ایڈیٹر - 22/09/2026
دنیا میں کچھ بھی ہو، پاکستان سے تعلقات مزید مضبوط کریں گے: چینی قونصل جنرل

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): چین نے پاکستان کے ساتھ دیرینہ دوستی اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی حالات چاہے جیسے بھی ہوں، پاک چین تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

چین کے کراچی میں قائم قونصل خانے میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی 77 ویں سالگرہ کے سلسلے میں تقریب منعقد ہوئی، جس میں قائم مقام چینی قونصل جنرل فینگ دیہنگ، گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، مختلف ممالک کے قونصل جنرلز، سیاسی رہنماؤں اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فینگ دیہنگ نے کہا کہ چین اور پاکستان ایسے اچھے ہمسائے ہیں جنہیں پہاڑ اور دریا جوڑتے ہیں، دونوں ممالک بااعتماد دوست اور دکھ سکھ کے ساتھی ہیں۔ ان کے بقول پاک چین تعلقات میں اعلیٰ سطح کا سیاسی و سلامتی تعاون موجود ہے جبکہ دونوں ممالک عالمی سطح پر بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے اور باہمی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود چین پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان ہونے والے حالیہ رابطوں اور دوروں نے باہمی تعاون کے لیے نئی سمت متعین کی ہے۔

فینگ دیہنگ کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دوروں کے دوران پاک چین آل ویدر اسٹریٹیجک تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے روڈ میپ اور بنیادی رہنمائی طے کی گئی۔ چین دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان طے پانے والی مشترکہ مفاہمت کو عملی شکل دینے، عوامی سطح پر روابط بڑھانے اور عالمی بے یقینی کا مقابلہ مضبوط پاک چین شراکت داری کے ذریعے کرنے کا خواہاں ہے۔

پاکستان کی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے قائم مقام قونصل جنرل نے کہا کہ چین کو یہ دیکھ کر خوشی ہے کہ پاکستانی عوام قومی ترقی کے عمل میں نئی کامیابیاں حاصل کررہے ہیں اور ملک کی معاشی صورتحال میں استحکام آیا ہے۔

انہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اگلے مرحلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اپ گریڈڈ سی پیک 2.0 کی تعمیر کے عمل کو تیز کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں صنعت، زراعت، کان کنی اور معلوماتی ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔

فینگ دیہنگ نے کہا کہ تعلیم، ثقافت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں باہمی تبادلوں کو وسعت دے کر دونوں ملکوں کے عوام کے لیے مزید مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں، جبکہ حالیہ برسوں میں پاکستانی شہریوں کے چین کے دوروں اور ثقافتی روابط میں اضافے سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے چینی قونصل جنرل نے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا اور کہا کہ علاقائی تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ ہنگامہ خیز عالمی صورتحال میں چین امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کررہا ہے۔ بیجنگ مشترکہ، جامع اور دیرپا سلامتی کے اصولوں کی حمایت کرتا ہے اور کشیدگی کا شکار خطوں میں سیاسی حل اور مذاکرات کو فروغ دینے پر زور دیتا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے مشرق وسطیٰ کے حوالے سے چینی صدر شی جن پنگ کی چار نکاتی تجویز کا بھی ذکر کیا۔

گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی نے ہر آزمائش میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری دونوں ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کا عملی مظہر ہے اور پاک چین تعاون اب بنیادی ڈھانچے سے آگے بڑھ کر صنعت، ٹیکنالوجی، زراعت اور جدت کے شعبوں تک پھیل چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی مضبوط شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اہم ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری نے رابطوں، توانائی، صنعت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سندھ میں توانائی، بندرگاہوں، صنعت اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں چینی سرمایہ کاری میں اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت قابل تجدید توانائی اور جدید شہری ترقی سمیت دیگر شعبوں میں چین کے ساتھ تعاون مزید بڑھانے کی خواہاں ہے اور چینی سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

چین کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے فینگ دیہنگ نے کہا کہ چین نے ایک غریب اور پسماندہ ملک سے دنیا کی دوسری بڑی معیشت بننے تک کا سفر طے کیا اور کئی برس سے دنیا کا سب سے بڑا صنعت کار اور تجارتی شراکت دار ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ چین نے انتہائی غربت کے خاتمے کے ساتھ دنیا کے بڑے تعلیمی، سماجی تحفظ اور صحت کے نظام قائم کیے اور ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچائے۔

قائم مقام قونصل جنرل نے کہا کہ 2026 چین کے لیے کئی حوالوں سے اہم سال ہے، کیونکہ یہ چینی کمیونسٹ پارٹی کے قیام کی 105 ویں سالگرہ کا سال ہے اور ملک کے 15 ویں پنج سالہ منصوبے پر عملدرآمد کا پہلا سال بھی ہے۔

ان کے مطابق رواں سال چین کی مجموعی قومی پیداوار میں 4.7 فیصد اضافہ ہوا ہے، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے پیش رفت جاری ہے جبکہ سبز توانائی کی جانب منتقلی بھی تیز ہورہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اس وقت 160 سے زائد ممالک کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

فینگ دیہنگ نے سائنسی و تکنیکی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق، نئی توانائی، ادویات، راکٹ ٹیکنالوجی اور انسان نما روبوٹس سمیت مختلف شعبوں میں چین کی تحقیق اور جدت کا عمل جاری ہے۔

تقریب کے اختتام پر چینی قونصل جنرل نے کہا کہ دنیا کو پیچیدہ نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم امن، ترقی اور تعاون کا رجحان ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق کثیر قطبی عالمی نظام اور اقتصادی عالمگیریت بھی جاری رہنے والے عمل ہیں، اس لیے دونوں ممالک کو گزشتہ کامیابیوں کو بنیاد بنا کر پاک چین شراکت داری کو مزید نئی بلندیوں تک لے جانا چاہیے۔