حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
عراقچی کا اقوام متحدہ پر بڑا سوال، عالمی ادارے پر اعتماد ختم ہوچکا: ایرانی وزیر خارجہ Home / بین الاقوامی /

عراقچی کا اقوام متحدہ پر بڑا سوال، عالمی ادارے پر اعتماد ختم ہوچکا: ایرانی وزیر خارجہ

ایڈیٹر - 22/09/2026
عراقچی کا اقوام متحدہ پر بڑا سوال، عالمی ادارے پر اعتماد ختم ہوچکا: ایرانی وزیر خارجہ

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک) : ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ادارے پر اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اس کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے۔

نیویارک پہنچنے کے بعد جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ان کا دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب ایران امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد بھی خود کو ایک غیر معمولی اور کشیدہ صورتحال میں دیکھ رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم کو اپنے عوام کے حقوق، قومی مفادات اور اپنے مؤقف کو عالمی برادری کے سامنے پیش کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ عالمی امن اور سلامتی کے تحفظ میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا، جس کے باعث عالمی ادارے پر اعتماد میں کمی آئی ہے۔

عباس عراقچی نے جنرل اسمبلی کے رواں سال کے موضوع ’’اعتماد کی بحالی‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس موضوع کا انتخاب بھی عالمی سطح پر اعتماد کے بحران کی عکاسی کرتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ بعض ممالک خود کو بین الاقوامی قوانین اور عالمی اداروں سے بالاتر سمجھتے ہیں، جبکہ ان کے اتحادیوں کو بھی مختلف کارروائیوں پر استثنیٰ حاصل رہتا ہے۔

انہوں نے مغربی اور یورپی ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی حمایت کا دعویٰ کرنے والے بعض ممالک موجودہ صورتحال پر خاموش دکھائی دیتے ہیں۔

عباس عراقچی نیویارک پہنچنے کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ٹیلی فون پر رابطہ بھی کرچکے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان جنرل اسمبلی کے ایجنڈے اور عالمی امن و سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

ایرانی وزیر خارجہ کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس جاری ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی رابطوں کی کوششیں بھی زیر بحث ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے امکان کو بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کرچکے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت پر بھی توجہ مرکوز ہے۔