حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ٹرمپ کے خلاف امریکی میڈیا متحد، بڑے ٹی وی نیٹ ورکس نے کوریج روک دی Home / بین الاقوامی /

ٹرمپ کے خلاف امریکی میڈیا متحد، بڑے ٹی وی نیٹ ورکس نے کوریج روک دی

ایڈیٹر - 22/09/2026
ٹرمپ کے خلاف امریکی میڈیا متحد، بڑے ٹی وی نیٹ ورکس نے کوریج روک دی

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکنے کے فیصلے کے خلاف امریکا کے بڑے ٹی وی نیٹ ورکس نے غیر معمولی احتجاج کرتے ہوئے صدر کی پول کوریج معطل کردی۔

رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کی جانب سے 3 بڑے میڈیا اداروں کے صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد فاکس نیوز میڈیا، اے بی سی نیوز، سی بی ایس نیوز، این بی سی نیوز اور سی این این نے مشترکہ طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریبات کی ٹیلی وژن کوریج روکنے کا فیصلہ کیا۔

متعلقہ میڈیا اداروں نے مشترکہ بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ عوامی مفاد کا تقاضا ہے کہ شہریوں کو حکومت کی سرگرمیوں کے بارے میں درست اور آزادانہ معلومات دستیاب ہوں۔ بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی حکومت کو محض تنقیدی رپورٹنگ کی بنیاد پر نیوز اداروں کو محدود نہیں کرنا چاہیے۔

یہ احتجاج وائٹ ہاؤس کے ٹی وی پول کی جانب سے صدر کی تقریبات کی کوریج روکنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا۔ ٹی وی پول عام طور پر مختلف بڑے نشریاتی اداروں کے درمیان باری باری وائٹ ہاؤس کی اہم سرگرمیوں کی مشترکہ کوریج فراہم کرتا ہے۔

دوسری جانب سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ ان کے وائٹ ہاؤس داخلے کے اجازت نامے منسوخ کیے گئے اور انہیں عمارت میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ وائٹ ہاؤس نے ہفتے کے روز ان اداروں کے صحافیوں کو داخلے سے روکا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 3 اداروں پر پابندی کا اعلان کرتے ہوئے ان کی رپورٹنگ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور دیگر میڈیا اداروں کے خلاف بھی اسی نوعیت کی کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔

ادھر سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو نے وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی کے خلاف امریکی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے اقدام کو چیلنج کردیا ہے۔ تینوں اداروں کا مؤقف ہے کہ پابندی آزاد صحافت اور اظہارِ رائے سے متعلق آئینی تحفظات سے متصادم ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس آزاد صحافت کے خلاف نہیں بلکہ ان میڈیا اداروں کے خلاف کارروائی کررہا ہے جنہیں وہ جھوٹی خبریں پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

امریکی صدر اور میڈیا اداروں کے درمیان تازہ تنازع نے وائٹ ہاؤس تک صحافتی رسائی، آزاد رپورٹنگ اور حکومتی سرگرمیوں کی عوام تک براہ راست معلومات کی فراہمی سے متعلق بحث کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔