حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
بٹ خیلہ بائی پاس فائرنگ کیس میں نیا موڑ، شکیل احمد کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج Home / سیاست /

بٹ خیلہ بائی پاس فائرنگ کیس میں نیا موڑ، شکیل احمد کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج

ایڈیٹر - 21/09/2026
بٹ خیلہ بائی پاس فائرنگ کیس میں نیا موڑ، شکیل احمد کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): بٹ خیلہ بائی پاس پر فائرنگ کے واقعے نے نیا رخ اختیار کرلیا، سی ٹی ڈی باجوڑ ریجن نے خیبر پختونخوا کے وزیر برائے مواصلات و تعمیرات شکیل احمد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا، جبکہ صوبائی وزیر کی جانب سے بھی نامعلوم مسلح افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی گئی۔

زخمی سی ٹی ڈی اہلکار کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق اہلکار اپنے ساتھیوں کے ہمراہ معمول کی ڈیوٹی پر موجود تھا کہ بٹ خیلہ بائی پاس کے قریب ایک ویگو گاڑی ان کی گاڑی کے سامنے آکر رک گئی۔

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ شکیل احمد، ارشد، اقبال خان اور ایک نامعلوم شخص گاڑی سے اترے اور اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک اہلکار کمر پر گولی لگنے سے زخمی ہوا، جبکہ دیگر اہلکار محفوظ رہے۔

مقدمے کے متن کے مطابق فائرنگ سے سرکاری گاڑی کو بھی نقصان پہنچا، جس کے بعد شکیل احمد سمیت دیگر افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 سمیت مختلف دفعات کے تحت کارروائی شروع کی گئی ہے۔

دوسری جانب شکیل احمد نے ڈپٹی کمشنر و کمانڈنٹ مالاکنڈ لیویز، اسسٹنٹ کمشنر و ڈپٹی کمانڈنٹ مالاکنڈ لیویز بٹ خیلہ اور لیویز پوسٹ بٹ خیلہ کے پوسٹ کمانڈر کو درخواست دے کر نامعلوم مسلح افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی ہے۔

صوبائی وزیر نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ انہیں گزشتہ چند روز سے اغوا اور قتل کی دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں، جس کے باعث انہوں نے سیکیورٹی بڑھانے کے ساتھ اپنی نقل و حرکت بھی محدود کر دی تھی۔

درخواست کے مطابق 20 ستمبر کو شکیل احمد پارٹی کارکنوں سے ملاقات کے لیے طوط کان پیرخیل روانہ ہوئے، جہاں سیکیورٹی عملے نے انہیں ایک سلور گرے موٹر کار کی جانب سے مبینہ طور پر مسلسل تعاقب کیے جانے سے آگاہ کیا۔ شکیل احمد کے مطابق انہوں نے احتیاطاً کچھ وقت ایک دوست کے گھر گزارا۔

بعد ازاں وہ تھانہ بٹ خیلہ گئے اور تقریباً 5 بجے گھر کی جانب روانہ ہوئے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نواز ہسپتال، صبر شاہ بائی پاس کے قریب وہی سلور گرے موٹر کار ایک مرتبہ پھر ان کے قافلے کا تعاقب کرتی نظر آئی۔

شکیل احمد کے مطابق گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ پر ایک نقاب پوش شخص، اگلی نشست پر خاکی لباس میں ملبوس ایک شخص جبکہ پچھلی نشست پر 3 مسلح افراد موجود تھے۔ ان کا الزام ہے کہ گاڑی قریب آنے پر اگلی نشست پر بیٹھے شخص نے پستول سے فائرنگ شروع کردی، جس کے بعد پچھلی نشست پر موجود افراد نے بھی فائرنگ کی۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ شکیل احمد کے سیکیورٹی اہلکاروں نے مبینہ حملے کے جواب میں دفاعی فائرنگ کی اور گاڑی کے ٹائروں کو نشانہ بنایا، تاہم ڈرائیور گاڑی کو تیزی سے وہاں سے نکال کر گھر کی سمت لے گیا۔

شکیل احمد نے اپنی درخواست میں نامعلوم مسلح افراد کے خلاف اغوا اور قتل کی مبینہ کوشش کے تحت مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی ہے۔

واقعے کے حوالے سے دستیاب رپورٹس میں لیویز اہلکاروں کے زخمی ہونے اور شکیل خان کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کا بھی ذکر ہے، تاہم واقعے کے مختلف فریقوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین تفتیش کے بعد ہوگا۔