حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): عالمی فوجداری عدالت کے خلاف امریکی دباؤ میں مزید شدت آنے کا امکان ہے، ٹرمپ انتظامیہ نے عدالت کے خلاف وسیع پابندیاں عائد کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے، جن کے تحت مستقبل میں اس کے بیشتر مالی لین دین پر قدغن لگ سکتی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام اور دستاویزات کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مجوزہ پابندیوں کے نفاذ کے بعد عالمی فوجداری عدالت کو 6 سے 7 ماہ کی عبوری مدت دی جائے گی، جس کے بعد عدالت کے ساتھ زیادہ تر لین دین ممنوع قرار دیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ اقدامات عدالت کو امریکی ڈالر میں مالی معاملات کرنے سے بھی روک سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی فوجداری عدالت کی عالمی مالیاتی نظام تک رسائی محدود ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ اقدام امریکی پالیسی میں اس لیے بھی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے کہ واشنگٹن نے اس سے قبل عالمی فوجداری عدالت کے بعض ججوں اور پراسیکیوٹرز کو پابندیوں کا نشانہ بنایا تھا، تاہم نئی تجاویز کا دائرہ پوری عدالت کے ادارہ جاتی معاملات تک پھیل سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی اقدامات کا تعلق عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے اسرائیلی قیادت کے خلاف جاری کارروائیوں اور گرفتاری کے وارنٹس کے معاملے سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ امریکی حکام عدالت پر دباؤ بڑھانے کے لیے دیگر ممالک کو بھی اس سے دور رہنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مجوزہ پابندیوں کے اثرات عدالت کی روزمرہ سرگرمیوں تک پہنچ سکتے ہیں، جن میں مالی ادائیگیاں، ٹیکنالوجی اور انشورنس خدمات، تفتیشی امور اور عملے کی تنخواہوں کی ادائیگی شامل ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے پابندیوں کے اعلان کی تیاری کی جا رہی ہے، تاہم خبر کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق فوری طور پر نہیں ہو سکی۔