حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر اہم فیصلے جلد ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس وقت فیصلہ سازی کے مرحلے میں ہیں اور آنے والے دنوں میں خطے میں بڑی پیش رفت متوقع ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق اپنی حکمت عملی کے لیے 3 ممکنہ راستوں کا ذکر کیا۔ ان میں ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی، اقتصادی دباؤ بڑھانا یا کسی معاہدے تک پہنچنا شامل ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا، بصورت دیگر اسے شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے انتہائی سخت زبان استعمال کرتے ہوئے ایران کو تباہ کرنے اور اس کی معیشت کو شدید نقصان پہنچانے کے امکانات کا بھی ذکر کیا۔
امریکی صدر نے ایک ہی وقت میں سفارتی راستے کے امکان کو بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے امکان پر وہ غور کر سکتے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا آنے کی اجازت دی گئی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ایرانی وفد کو اقوام متحدہ کی میزبانی سے متعلق امریکی ذمہ داریوں کے تحت اجلاس میں شرکت کی اجازت دی گئی۔
یوں ایک طرف واشنگٹن کی جانب سے ایران کے خلاف سخت اقدامات کی دھمکیاں سامنے آ رہی ہیں تو دوسری جانب اعلیٰ سطح پر براہ راست ملاقات اور مذاکرات کا امکان بھی برقرار ہے۔