حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو اسلام آباد احتجاج کے اعلان کے تناظر میں سیاسی کشیدگی کے دوران ضلع مالاکنڈ میں فائرنگ کے ایک واقعے نے امن و امان کی صورتحال پر تشویش بڑھا دی ہے، جہاں پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی شکیل خان کی موجودگی میں ان کے سکیورٹی گارڈز کی مبینہ فائرنگ سے 2 لیویز اہلکار زخمی ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب لیویز اہلکاروں اور پی ٹی آئی رہنما کے گارڈز کے درمیان صورتحال کشیدہ ہوئی۔ واقعے سے متعلق سامنے آنے والی ویڈیوز میں شکیل خان کی موجودگی اور گارڈز کی جانب سے لیویز اہلکاروں پر فائرنگ کے مناظر بھی دکھائی دیتے ہیں۔
واقعے کے بعد متعلقہ حکام نے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شکیل خان سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ نامزد افراد کی گرفتاری کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
لیویز حکام نے واقعے پر واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری اہلکاروں پر فائرنگ کسی صورت قابل قبول نہیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
حکام کے مطابق واقعے میں ملوث افراد کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے کارروائی آگے بڑھائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب بہاولپور میں پی ٹی آئی کی احتجاجی سرگرمیوں کے تناظر میں پولیس نے کارکنوں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں تیز کردی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مقامی پولیس کی جانب سے ممکنہ احتجاج میں شرکت کرنے والے کارکنوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، جبکہ صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے سکیورٹی اقدامات بھی بڑھا دیے گئے ہیں۔
یہ پیش رفت پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر کے 27 ستمبر کے احتجاج سے متعلق حالیہ سخت بیان کے بعد سامنے آئی ہے۔
مردان میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے جنید اکبر نے اسلام آباد میں احتجاج کے حوالے سے سخت زبان استعمال کی تھی اور کہا تھا کہ پارٹی کارکن مختلف راستوں سے وفاقی دارالحکومت پہنچیں گے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں اسلام آباد کو ’’سومنات‘‘ بنانے اور شہر کو تباہ کرنے کا ذکر بھی کیا تھا۔
ان کے بیان میں احتجاج کے دوران ممکنہ جانی نقصان کا حوالہ بھی دیا گیا، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں اس کے مضمرات اور امن و امان کی صورتحال پر بحث شروع ہوگئی۔
جنید اکبر کے بیان اور مالاکنڈ کے فائرنگ واقعے کے بعد 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے سکیورٹی خدشات پر بھی توجہ بڑھ گئی ہے۔
حکام کی جانب سے ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں اور امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ حساس مقامات پر سکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
حالیہ پیش رفت کے بعد سیاسی کشیدگی کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کی احتجاجی سرگرمیوں کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔