حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
اسلام آباد:پی ٹی آئی احتجاج سے قبل بڑا کریک ڈاؤن، 5 ارکان پارلیمنٹ گرفتار؛ دارالحکومت کے راستوں پر رکاوٹوں کی تیاری Home / سیاست /

اسلام آباد:پی ٹی آئی احتجاج سے قبل بڑا کریک ڈاؤن، 5 ارکان پارلیمنٹ گرفتار؛ دارالحکومت کے راستوں پر رکاوٹوں کی تیاری

ایڈیٹر - 21/09/2026
اسلام آباد:پی ٹی آئی احتجاج سے قبل بڑا کریک ڈاؤن، 5 ارکان پارلیمنٹ گرفتار؛ دارالحکومت کے راستوں پر رکاوٹوں کی تیاری

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں مجوزہ احتجاج سے قبل وفاقی دارالحکومت میں سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے، جہاں حکام نے ممکنہ احتجاجی قافلوں کی آمد روکنے کے لیے انتظامات تیز کر دیے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے 5 ارکان پارلیمنٹ کو ریڈ زون سے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق گرفتار کیے گئے ارکان میں سینیٹر سیف اللہ نیازی، ثناء اللہ مستی خیل، جمال احسن خان، داوڑ خان اور محمد غوث شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہیں ریڈ زون سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے اور پارٹی رہنماؤں کی جانب سے کارکنوں کو بڑی تعداد میں دارالحکومت پہنچنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔

علیمہ خان کو 30 روز کے لیے حراست میں رکھنے کا حکم

لاہور میں ضلعی انتظامیہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کے خلاف بھی کارروائی کرتے ہوئے انہیں 3 ایم پی او کے تحت 30 روز کے لیے کوٹ لکھپت جیل میں نظر بند رکھنے کا حکم جاری کیا ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے جاری حکم میں علیمہ خان پر عوامی امن و امان کو متاثر کرنے اور کارکنوں کو احتجاج پر اکسانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

مالاکنڈ میں فائرنگ، لیویز اہلکار زخمی

ادھر خیبر پختونخوا کے ضلع مالاکنڈ میں پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی شکیل خان کے گارڈ کی مبینہ فائرنگ سے 2 لیویز اہلکار زخمی ہوگئے۔

حکام کے مطابق واقعے کے وقت رکن اسمبلی کی موجودگی اور فائرنگ کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

حکام نے واقعے میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں اور واضح کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کسی شخص کو رعایت نہیں دی جائے گی۔

جنید اکبر کا سخت بیان، 27 ستمبر کو اسلام آباد پہنچنے کا اعلان

پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے مردان میں کارکنوں سے خطاب کے دوران حکومت کے خلاف سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی 27 ستمبر کے احتجاج سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج کے دوران جانی نقصان بھی ہوا تو تحریک میں شامل ہونے کے لیے نئے لوگ سامنے آئیں گے۔ ان کے مطابق کارکن اسلام آباد پہنچنے کے لیے صرف ایک راستہ اختیار نہیں کریں گے بلکہ موٹر وے، جی ٹی روڈ اور مارگلہ کے پہاڑی راستوں سمیت مختلف سمتوں سے دارالحکومت میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے۔

جنید اکبر نے اپنی تقریر میں اسلام آباد کو ’’سومناتھ‘‘ بنانے کا بھی حوالہ دیا اور احتجاج کو کامیاب بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

خواجہ آصف کا جواب، ’’اسلام آباد سومناتھ ہے نہ کوئی محمود غزنوی‘‘

جنید اکبر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اسلام آباد نہ سومناتھ ہے اور نہ ہی اسے فتح کرنے کے لیے کوئی محمود غزنوی موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد وفاق کی علامت اور ملک کا دارالحکومت ہے اور حکومت دارالحکومت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔

خواجہ آصف نے خیبر پختونخوا میں جاری بدامنی کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ صوبے میں ہونے والی ہلاکتوں کے پس منظر میں مزید انتشار پیدا کرنے کی کوششیں کیوں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد آنے والے مبینہ احتجاجی قافلوں میں افغان شہریوں کی شمولیت ہوگی یا نہیں۔

حکومت کا مؤقف، اسلام آباد کو میدانِ تصادم نہیں بننے دیں گے

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بھی پی ٹی آئی کے احتجاجی منصوبے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کسی ایک سیاسی جماعت کی ملکیت نہیں اور دارالحکومت کو تصادم کا مرکز بنانے کی کوشش قبول نہیں کی جائے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سڑکوں کی بندش سے متعلق عدالتی فیصلے موجود ہیں اور حکومت کسی بھی پرتشدد گروہ کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔

احتجاجی قافلوں کو روکنے کے لیے راستوں پر رکاوٹیں لگانے کی تیاری

دوسری جانب اسلام آباد انتظامیہ نے ممکنہ احتجاجی قافلوں کو دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے مختلف راستوں کا جائزہ مکمل کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا سے اسلام آباد آنے والے اہم راستوں کا سروے کیا گیا ہے، جبکہ موٹر وے، جی ٹی روڈ، 26 نمبر چونگی اور مارگلہ ٹیکسلا کے اطراف ممکنہ رکاوٹیں کھڑی کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر خندقیں کھودنے اور دیگر حفاظتی اقدامات پر بھی غور کیا گیا ہے تاکہ احتجاجی قافلوں کی پیش قدمی روکی جا سکے۔

یوں 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل ایک طرف پی ٹی آئی نے اسلام آباد پہنچنے کے عزم کا اظہار کیا ہے تو دوسری جانب وفاقی اور ضلعی انتظامیہ نے دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے اور ممکنہ احتجاجی قافلوں کو روکنے کے لیے سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں مجوزہ احتجاج سے قبل وفاقی دارالحکومت میں سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے، جہاں حکام نے ممکنہ احتجاجی قافلوں کی آمد روکنے کے لیے انتظامات تیز کر دیے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے 5 ارکان پارلیمنٹ کو ریڈ زون سے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق گرفتار کیے گئے ارکان میں سینیٹر سیف اللہ نیازی، ثناء اللہ مستی خیل، جمال احسن خان، داوڑ خان اور محمد غوث شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہیں ریڈ زون سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے اور پارٹی رہنماؤں کی جانب سے کارکنوں کو بڑی تعداد میں دارالحکومت پہنچنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔

علیمہ خان کو 30 روز کے لیے حراست میں رکھنے کا حکم

لاہور میں ضلعی انتظامیہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کے خلاف بھی کارروائی کرتے ہوئے انہیں 3 ایم پی او کے تحت 30 روز کے لیے کوٹ لکھپت جیل میں نظر بند رکھنے کا حکم جاری کیا ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے جاری حکم میں علیمہ خان پر عوامی امن و امان کو متاثر کرنے اور کارکنوں کو احتجاج پر اکسانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

مالاکنڈ میں فائرنگ، لیویز اہلکار زخمی

ادھر خیبر پختونخوا کے ضلع مالاکنڈ میں پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی شکیل خان کے گارڈ کی مبینہ فائرنگ سے 2 لیویز اہلکار زخمی ہوگئے۔

حکام کے مطابق واقعے کے وقت رکن اسمبلی کی موجودگی اور فائرنگ کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

حکام نے واقعے میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں اور واضح کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کسی شخص کو رعایت نہیں دی جائے گی۔

جنید اکبر کا سخت بیان، 27 ستمبر کو اسلام آباد پہنچنے کا اعلان

پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے مردان میں کارکنوں سے خطاب کے دوران حکومت کے خلاف سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی 27 ستمبر کے احتجاج سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج کے دوران جانی نقصان بھی ہوا تو تحریک میں شامل ہونے کے لیے نئے لوگ سامنے آئیں گے۔ ان کے مطابق کارکن اسلام آباد پہنچنے کے لیے صرف ایک راستہ اختیار نہیں کریں گے بلکہ موٹر وے، جی ٹی روڈ اور مارگلہ کے پہاڑی راستوں سمیت مختلف سمتوں سے دارالحکومت میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے۔

جنید اکبر نے اپنی تقریر میں اسلام آباد کو ’’سومناتھ‘‘ بنانے کا بھی حوالہ دیا اور احتجاج کو کامیاب بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

خواجہ آصف کا جواب، ’’اسلام آباد سومناتھ ہے نہ کوئی محمود غزنوی‘‘

جنید اکبر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اسلام آباد نہ سومناتھ ہے اور نہ ہی اسے فتح کرنے کے لیے کوئی محمود غزنوی موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد وفاق کی علامت اور ملک کا دارالحکومت ہے اور حکومت دارالحکومت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔

خواجہ آصف نے خیبر پختونخوا میں جاری بدامنی کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ صوبے میں ہونے والی ہلاکتوں کے پس منظر میں مزید انتشار پیدا کرنے کی کوششیں کیوں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد آنے والے مبینہ احتجاجی قافلوں میں افغان شہریوں کی شمولیت ہوگی یا نہیں۔

حکومت کا مؤقف، اسلام آباد کو میدانِ تصادم نہیں بننے دیں گے

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بھی پی ٹی آئی کے احتجاجی منصوبے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کسی ایک سیاسی جماعت کی ملکیت نہیں اور دارالحکومت کو تصادم کا مرکز بنانے کی کوشش قبول نہیں کی جائے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سڑکوں کی بندش سے متعلق عدالتی فیصلے موجود ہیں اور حکومت کسی بھی پرتشدد گروہ کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔

احتجاجی قافلوں کو روکنے کے لیے راستوں پر رکاوٹیں لگانے کی تیاری

دوسری جانب اسلام آباد انتظامیہ نے ممکنہ احتجاجی قافلوں کو دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے مختلف راستوں کا جائزہ مکمل کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا سے اسلام آباد آنے والے اہم راستوں کا سروے کیا گیا ہے، جبکہ موٹر وے، جی ٹی روڈ، 26 نمبر چونگی اور مارگلہ ٹیکسلا کے اطراف ممکنہ رکاوٹیں کھڑی کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر خندقیں کھودنے اور دیگر حفاظتی اقدامات پر بھی غور کیا گیا ہے تاکہ احتجاجی قافلوں کی پیش قدمی روکی جا سکے۔

یوں 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل ایک طرف پی ٹی آئی نے اسلام آباد پہنچنے کے عزم کا اظہار کیا ہے تو دوسری جانب وفاقی اور ضلعی انتظامیہ نے دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے اور ممکنہ احتجاجی قافلوں کو روکنے کے لیے سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔