ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر حوثی ملیشیا کا میزائل و ڈرون حملہ، آرامکو ڈپو کے قریب آگ لگ گئی، فلائٹ آپریشن معطل
ریاض، 20 ستمبر 2026ء: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو حوثی ملیشیا کی جانب سے ڈرون اور میزائلوں کی تازہ لہر کے دوران نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ایئرپورٹ پر شدید آگ لگنے کے بعد فلائٹ آپریشن کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، حملے کے وقت ریاض کا آسمان گہرے دھوئیں کے بادلوں سے ڈھک گیا اور دارالحکومت کے قریبی علاقوں میں خوفناک دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس بشمول رائٹرز اور اے ایف پی کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایئرپورٹ ہائی وے اور مین ٹرمینل بلڈنگ کے پسِ منظر میں سیاہ دھوئیں کا ایک بڑا ستون فضا میں بلند ہو رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، یہ آگ ایئرپورٹ کے قریب واقع سرکاری تیل کمپنی سعودی آرامکو کے ڈپو اور فیول ٹینکس کے پچھلے حصے میں لگی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کے طائف ایئر بیس پر بھی حملے کیے ہیں جہاں اٹلی کے وزیرِ دفاع کروزیٹو نے تصدیق کی ہے کہ حوثی حملے کے دوران ایک اطالوی جنگی طیارے کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم کسی فوجی اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
اس سنگین علاقائی کشیدگی کے بعد سفارتی محاذ پر بھی زبردست ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر پر حملے کے بعد پاکستان اور قطر کے ذریعے ایران اور امریکہ کے مابین پیغامات کا تبادلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں سفارتی ذرائع ابلاغ کی بحالی اور خطے میں بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ پاکستانی نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب سے رابطہ کر کے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور سمندری تجارتی راستوں کی بحالی پر زور دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب بھر میں فوجی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا یہ سلسلہ مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔