حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پی ٹی آئی کے ممکنہ اسلام آباد مارچ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ پارٹی کو ایک بار پھر دارالحکومت آنے پر ’’کان پکڑ کر سمجھانا‘‘ پڑے، 27 ستمبر کو ریاست اپنی رِٹ کس طرح قائم کرتی ہے، یہ سب کے سامنے آ جائے گا۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم ہر 3 ماہ بعد انسداد دہشتگردی کے حوالے سے اجلاس منعقد کرتے ہیں، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ان اجلاسوں میں شرکت نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا 2 روز بعد وفاق سے فنڈز اور این ایف سی میں صوبے کا حصہ بڑھانے کا مطالبہ کرنے اسلام آباد آجاتے ہیں، اس لیے پہلے خیبرپختونخوا حکومت کو این ایف سی کے تحت ملنے والے 700 ارب روپے کا حساب دینا چاہیے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کو این ایف سی کے تحت خطیر رقم فراہم کی جا چکی ہے، لہٰذا صوبائی حکومت کو پہلے اس رقم کے استعمال اور اخراجات کے حوالے سے جواب دینا ہوگا۔
پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ سے متعلق سوال پر طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت کسی تصادم کی خواہش مند نہیں، تاہم ریاستی رِٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ پی ٹی آئی کو اس مرتبہ بھی اسلام آباد آنے پر ’’کان پکڑ کر سمجھانا‘‘ پڑے، 27 ستمبر کی تاریخ آنے پر واضح ہوجائے گا کہ ریاست اپنی رِٹ کس انداز میں قائم کرتی ہے۔