حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): امریکا نے ایران کے ساتھ جاری شدید کشیدگی کے باوجود ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اعلیٰ حکام کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزے جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ایران کے مرکزی وفد اور ضروری معاون عملے کو نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی اجازت ہوگی۔ تاہم رواں سال ایرانی وفد کا حجم گزشتہ سال کے مقابلے میں محدود رکھا گیا ہے اور وفد کے ارکان کو سفری پابندیوں سمیت بعض دیگر شرائط کا سامنا ہوگا۔
محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے میزبان ملک کی حیثیت سے امریکا اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے، اسی لیے ایرانی وفد کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی وفد کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد رہیں گی، جبکہ بعض اشیا کی خریداری پر بھی پابندی ہوگی۔ امریکا اس سے قبل بھی ایرانی سفارت کاروں کی نیویارک میں نقل و حرکت محدود کرتا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81 واں اجلاس نیویارک میں جاری ہے، جبکہ اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران دنیا بھر سے سربراہان مملکت اور حکومتیں شرکت کریں گی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی اجلاس سے خطاب کرنے والے اہم رہنماؤں میں شامل ہیں۔
امریکی فیصلے کی خاص بات یہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری شدید کشیدگی اور تنازع کے باوجود ایرانی قیادت کو جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے امریکا آنے کی اجازت دی گئی ہے۔
دوسری جانب امریکا نے فلسطینی صدر محمود عباس اور فلسطینی وفد کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کردیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب محمود عباس کو امریکا نے جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے داخلے کا ویزا نہیں دیا۔ فلسطینی اتھارٹی نے امریکی اقدام پر اعتراض کرتے ہوئے اسے فلسطینی قیادت اور امریکا کے تعلقات کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
محمود عباس کی جانب سے اجلاس سے خطاب کے لیے ویڈیو پیغام کی اجازت دیے جانے کا امکان ہے، جیسا کہ گزشتہ سال بھی انہوں نے ویڈیو کے ذریعے خطاب کیا تھا۔