حسبان میڈیا(ویب ڈیسک): ایران نے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور مسجد اقصیٰ سمیت اسلامی مقدس مقامات اور زائرین کو کسی بھی قسم کی جارحیت کا نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے مکہ کی جانب ڈرون بھیجے جانے کے سعودی دعوے پر محتاط رہنے پر زور دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عربی زبان میں جاری بیان میں کہا کہ محض کسی ڈرون کو مکہ مکرمہ کی سمت جاتے ہوئے مار گرائے جانے کا دعویٰ کسی مخصوص فریق کو ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے کافی نہیں۔ انہوں نے حوثیوں کی جانب سے اس الزام کی تردید کا بھی حوالہ دیا۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ اسلامی مقدس مقامات کے معاملے کو سیاسی تنازعات یا سکیورٹی کشیدگی کا حصہ بنانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق مقدس مقامات کو اختلافات بڑھانے یا خطے میں مزید کشیدگی پیدا کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ خطے میں ماضی کے بعض واقعات کو فالس فلیگ قرار دیا گیا ہے اور ان کے بارے میں مختلف فریقوں کی جانب سے یہ دعوے کیے گئے کہ ان کا مقصد امریکا اور اسرائیل کے اقدامات سے توجہ ہٹانا یا اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات کو ہوا دینا تھا۔ انہوں نے تمام فریقوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے کی اپیل کی۔
ایرانی بیان سعودی عرب کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے کہ 15 ستمبر کی شام یمن سے حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ کی سمت بھیجا گیا ایک ڈرون سعودی فضائی دفاع نے شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل روک کر تباہ کردیا تھا۔
سعودی زیر قیادت اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق ڈرون کو مکہ مکرمہ کے جنوب میں روکا گیا۔ انہوں نے اسے مقدس شہر کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ 2017 کے بیلسٹک میزائل واقعے کے بعد مکہ مکرمہ کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی دوسری کوشش ہے۔
دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے مکہ مکرمہ یا کسی مقدس مقام کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون نہیں بھیجا۔ سعودی دعوے کی آزادانہ طور پر بھی مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت آئی ہے اور سعودی عرب کی جانب بھی حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کا حالیہ بیان اسی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس میں تہران نے مقدس مقامات کے معاملے پر کسی فریق کو ذمہ دار قرار دینے سے قبل مزید احتیاط پر زور دیا ہے۔