برسلز (حسبان نیوز ڈیسک): یورپی یونین نے براعظم کی سلامتی کو درپیش جدید چیلنجز سے نمٹنے کے لیے امریکہ پر انحصار کم کرتے ہوئے دیگر حلیف ممالک کے ساتھ مل کر اپنی خودمختار سکیورٹی کونسل قائم کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا واندرلین نے یورپی پارلیمنٹ میں اپنے سالانہ 'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب کے دوران اس تاریخی دفاعی منصوبے کی نقاب کشائی کی، جس کا مقصد یورپ کی دفاعی خودمختاری کو مضبوط بنانا ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر کی جانب سے پیش کردہ تجویز کے مطابق اس نئی قائم ہونے والی 'یورپی سلامتی کونسل' میں صرف یورپی یونین کے رکن ممالک ہی شامل نہیں ہوں گے، بلکہ اس میں برطانیہ، ناروے، کینیڈا اور جنگ زدہ یوکرین کے رہنماؤں کو بھی شراکت دار کے طور پر شامل کیا جائے گا۔ ارسلا واندرلین کا کہنا تھا کہ یورپ کو دورِ حاضر کے جدید 'ہائبرڈ حملوں' (Hybrid Attacks) کا مؤثر جواب دینے کے لیے اپنے آزاد لائحہ عمل کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے ہائبرڈ خطرات، بشمول تخریب کاری، آتش زنی اور ڈرون دراندازی، جن کا بالواسطہ اشارہ روس کی جانب تھا، سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط دفاعی ردِعمل کا نیا نظام بھی تجویز کیا۔
بین الاقوامی دفاعی مبصرین کے مطابق یہ غیر معمولی تجویز اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یورپی قیادت اب اپنے براعظم کے دفاع کی مکمل ذمہ داری خود اٹھانے کی خواہاں ہے۔ اس فیصلے کا ایک بڑا محرک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو (NATO) فوجی اتحاد کے تحت یورپ کے دفاع کے حوالے سے پائے جانے والے شکوک و شبہات اور بیانات بھی ہیں۔ تاہم، بعض عسکری تجزیہ کاروں نے متنبہ کیا ہے کہ واضح تفصیلات نہ ہونے کے باعث یہ نیا اقدام نیٹو کے موجودہ ڈھانچے کی محض ایک نقل ثابت ہو سکتا ہے، جس سے اتحادیوں کے درمیان ابہام پیدا ہونے اور اس فورم کے محض بیانات تک محدود رہ جانے کا خطرہ بھی موجود ہے۔