حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما منظور حسین وسان نے سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کی تقسیم سے متعلق کوئی بھی اقدام قابل قبول نہیں ہوگا۔
منظور وسان نے اپنے بیان میں کہا کہ سندھ کے عوام پہلے ہی محرومیوں کے احساس کا شکار ہیں، اس لیے نئے صوبوں کے قیام کی بات ان کے احساسِ محرومی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق سندھ کے مفادات کے خلاف کیے جانے والے کسی بھی فیصلے کو عوام قبول نہیں کریں گے۔
پیپلز پارٹی رہنما نے فیصلے کرنے والے حلقوں پر زور دیا کہ سندھ سے متعلق معاملات میں احتیاط اور دانش مندی سے کام لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پہلے ہی مشکل حالات سے گزر رہا ہے اور سندھ میں بھی ایسی صورتحال پیدا کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
منظور وسان نے کہا کہ ملک کو پہلے ہی مختلف بحرانوں کا سامنا ہے، اس لیے کسی ایسے اقدام سے گریز ضروری ہے جو مزید سیاسی یا انتظامی کشیدگی کا سبب بنے۔
انہوں نے واضح کیا کہ معاملہ صوبوں کی تشکیل کا ہو یا نہروں اور پانی کے مسائل کا، پیپلز پارٹی کی قیادت سندھ کے مفادات پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گی۔ ان کے بقول پارٹی قیادت صوبے کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
منظور وسان نے مزید کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد سے بعض حلقوں کی جانب سے سندھ کے مختلف ڈویژنوں کو الگ صوبوں میں تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں متحدہ قومی موومنٹ ہو یا جنرل ضیاء الحق کا دور، صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر دونوں کا مؤقف ایک جیسا رہا ہے۔