حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیل کو تقریباً 2.8 ارب ڈالر مالیت کے بڑے جنگی پیکیج کی تیاری شروع کردی ہے، جس میں 40,000 انتہائی بھاری بم بھی شامل ہیں۔
رائٹرز اور امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ پیکیج میں 20,000 ایم کے 84 اور 20,000 بی ایل یو 117 بم شامل ہیں، جن میں سے ہر بم کا وزن 2,000 پاؤنڈ ہے۔ یہ معاملہ امریکی کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کو غیر رسمی طور پر آگاہ کیا جاچکا ہے، تاہم ڈیل ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کرسکی۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے کی بڑی رقم امریکی فارن ملٹری فنانسنگ کے ذریعے فراہم کی جائے گی، جس کے تحت اسرائیل امریکی مالی معاونت سے امریکی ساختہ ہتھیار خریدتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے ہتھیاروں کی دوبارہ فراہمی کی جانب اہم قدم سمجھی جارہی ہے جن کی ایک کھیپ سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے 2024 میں روک دی تھی۔ اس وقت خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ 2,000 پاؤنڈ وزنی بم گنجان آباد علاقوں میں استعمال ہونے کی صورت میں بڑے پیمانے پر شہری جانی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد یہ پابندی ختم کردی گئی تھی۔
امریکی میڈیا کے مطابق نئی مجوزہ ڈیل میں ایم کے 84 اور بی ایل یو 117 بموں کے علاوہ آئی 2000 پینیٹریٹر وارہیڈز بھی شامل ہیں، جو مضبوط اور زیرِ زمین اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل غزہ اور لبنان میں اس نوعیت کے 2,000 پاؤنڈ وزنی امریکی ساختہ بم پہلے بھی استعمال کرچکا ہے، جس پر انسانی حقوق کے ماہرین نے گنجان آباد علاقوں میں شہری نقصانات کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ اور اسرائیلی سفارتخانے کی جانب سے مجوزہ فروخت پر فوری طور پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
مجوزہ جنگی پیکیج ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں، شہری نقصانات اور واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل کو فراہم کی جانے والی فوجی امداد پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔