حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ایران جنگ نے امریکی اسلحہ ذخائر ہلا دیے، اربوں ڈالر کے گولہ بارود کے استعمال کا انکشاف Home / بین الاقوامی /

ایران جنگ نے امریکی اسلحہ ذخائر ہلا دیے، اربوں ڈالر کے گولہ بارود کے استعمال کا انکشاف

ایڈیٹر - 16/09/2026
ایران جنگ نے امریکی اسلحہ ذخائر ہلا دیے، اربوں ڈالر کے گولہ بارود کے استعمال کا انکشاف

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران امریکی فوج کی جانب سے بڑے پیمانے پر گولہ بارود کے استعمال کے نتیجے میں اسٹریٹجک ذخائر میں کمی اور دفاعی صنعت میں سپلائی سے متعلق رکاوٹوں کا انکشاف ہوا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی جانب سے کانگریس کو پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے 30 جون تک جاری رہنے والے آپریشن ’’ایپک فیوری‘‘ پر مجموعی طور پر 33.4 ارب ڈالر خرچ ہوئے، جس میں 22.3 ارب ڈالر صرف گولہ بارود پر صرف کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران گولہ بارود کے غیر معمولی استعمال نے امریکی فوج کے اسٹریٹجک ذخائر کو متاثر کیا، جبکہ ہتھیاروں کی دوبارہ فراہمی کے لیے دفاعی صنعتی نظام میں بھی پیداواری اور سپلائی کی رکاوٹیں سامنے آئیں۔

امریکی فوج کو جنگ میں بھاری عسکری نقصان

رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف کارروائیوں کے دوران امریکی فوجی اثاثوں کو بھی نقصان پہنچا۔ 4 ایف-15 طیارے تباہ ہوئے، ایک ایف-35 طیارے کو نقصان پہنچا، جبکہ 7 کے سی-135 ٹینکر طیاروں کو بھی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے علاوہ 30 تک ایم کیو-9 ریپر ڈرونز تباہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ٹرمپ نے گولہ بارود کی کمی کا تاثر مسترد کردیا

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی ذخائر میں کمی کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے پاس درمیانے اور اعلیٰ درجے کے گولہ بارود کی تقریباً لامحدود مقدار موجود ہے اور ملک کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

تاہم سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ماہر مارک کینشین کے مطابق ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے امریکی ہتھیار کافی ہوسکتے ہیں، لیکن چین کے ساتھ طویل جنگ کی صورت میں صورتحال مختلف ہوگی۔ ان کے مطابق امریکا تقریباً 1 ماہ تک مطلوبہ گولہ بارود فراہم کرسکتا ہے، تاہم اس کے بعد دوسرے، تیسرے اور چوتھے ماہ کے لیے مسلسل سپلائی برقرار رکھنا بڑا چیلنج ہوگا۔

دفاعی صنعت کو پیداوار بڑھانے کا دباؤ

رپورٹ سامنے آنے سے قبل امریکی محکمہ دفاع کے اعلیٰ حکام گولہ بارود کی قلت سے متعلق دعووں کو مسترد کرتے رہے ہیں، تاہم امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دفاعی صنعت کو ہتھیاروں کی پیداوار تیز کرنے پر زور دیا ہے۔

دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے میزائل ڈویژن کے سربراہ ٹم کاہل نے پیداوار بڑھانے کی موجودہ صورتحال کو ’’کنٹرولڈ افراتفری‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق پیٹریاٹ میزائلوں کی سالانہ پیداوار میں بھی نمایاں اضافے کی کوشش کی جارہی ہے۔

رپورٹ نے امریکی دفاعی صنعت کے لیے جنگی ضروریات کے مطابق تیزی سے گولہ بارود تیار کرنے اور موجودہ ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے چیلنج کو نمایاں کیا ہے، جبکہ امریکی حکومت کی جانب سے قلت کے تاثر کو مسترد کیے جانے کے باوجود دفاعی پیداوار بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔