حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحادی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی فضائی دفاعی نظام نے مکہ مکرمہ کی جانب بڑھنے والے حوثیوں کے ایک ڈرون کو مقدس شہر کی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی فضا میں تباہ کردیا۔
اتحادی افواج کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق ڈرون کو مکہ مکرمہ کے جنوبی علاقے میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ مقدس شہر کی فضائی حدود کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جولائی 2017 کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب حوثیوں پر مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کا الزام سامنے آیا ہے۔
ترکی المالکی نے کہا کہ مقدس مقامات اور حجاج کرام کا تحفظ سعودی عرب کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق حوثیوں کے خلاف ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
تاہم حوثی حکام نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے الزام کو مسترد کردیا ہے۔ حوثی پولیٹیکل بیورو کے رکن محمد الفرح نے سعودی دعوے کو جھوٹ قرار دیا، جبکہ حوثی ترجمان حازم الاسد نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کا الزام ایک پرانا دعویٰ ہے جسے پہلے بھی استعمال کیا جاچکا ہے۔
دوسری جانب اسلامی تعاون تنظیم نے مبینہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق مقدس مقامات سے متعلق کسی بھی خطرے کو مسلمانوں کے جذبات سے جڑا حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں امریکا نے بھی اپنے شہریوں کے لیے سعودی عرب کے سفر سے متعلق احتیاطی ہدایات جاری کی ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ایران اور حوثیوں کی جانب سے ممکنہ ڈرون اور میزائل حملوں کے خطرات کے پیش نظر شہریوں کو سعودی عرب کا سفر کرنے سے قبل صورت حال کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر یمن کے مختلف صحرائی اور ساحلی علاقوں میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری شدید لڑائی کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جارہے ہیں، جہاں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور بحری و زمینی آمدورفت پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔