حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے الزام عائد کیا ہے کہ پنجاب پولیس نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کو ان کی سکیورٹی سے الگ کرکے مبینہ طور پر زبردستی دوسری گاڑی میں منتقل کیا اور بعد ازاں ایک دور افتادہ مقام پر چھوڑ دیا۔
اپنے بیان میں شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ کو پولیس کی گاڑی میں منتقل کرکے ان کی سکیورٹی سے جدا کیا گیا، جبکہ دباؤ بڑھنے کے بعد انہیں سکیورٹی کے بغیر ایک ویران علاقے میں چھوڑ دیا گیا۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مریم نواز کی حکومت میں پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ ان کے بقول پہلے پختونوں کے حوالے سے متنازع بیانات سامنے آئے اور اب خیبرپختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ کے ساتھ مبینہ طور پر ایسا سلوک کیا گیا ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ ایک صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ کو مبینہ طور پر اغوا کرنے یا ان کی تذلیل کی کوشش نہ صرف آئین اور جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ وفاقی اکائیوں کے باہمی احترام پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسے اقدامات کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے نتیجے میں دونوں صوبوں کے درمیان کشیدگی، نفرت اور تصادم میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کے ساتھ مبینہ سلوک کی وضاحت کی جائے اور واقعے سے متعلق حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں۔
شفیع جان نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ کی مبینہ تذلیل کسی صورت قابل قبول نہیں اور صوبائی حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے