حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
نئے صوبوں کا مطالبہ زور پکڑ گیا، پنجاب میں 6 سے 10 صوبے بنانے کی تجویز سامنے آگئی Home / سیاست /

نئے صوبوں کا مطالبہ زور پکڑ گیا، پنجاب میں 6 سے 10 صوبے بنانے کی تجویز سامنے آگئی

ایڈیٹر - 15/09/2026
نئے صوبوں کا مطالبہ زور پکڑ گیا، پنجاب میں 6 سے 10 صوبے بنانے کی تجویز سامنے آگئی

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): ملک کے مختلف علاقوں میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی آواز ایک بار پھر بلند ہونے لگی ہے، جہاں کسانوں، تاجروں اور دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے بہتر حکمرانی، عوامی مسائل کے فوری حل اور متوازن ترقی کے لیے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کو ناگزیر قرار دیا ہے۔

رحیم یار خان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ انتظامی نظام کے باعث جنوبی پنجاب کے عوام کو بنیادی مسائل کے حل کے لیے دور دراز صوبائی دارالحکومت کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رحیم یار خان کے کسان کو اپنے مسائل کے حل، انصاف اور تعلیم سے متعلق معاملات کے لیے لاہور کے بار بار چکر لگانے پڑتے ہیں، جس سے نہ صرف وقت اور وسائل ضائع ہوتے ہیں بلکہ عام شہری کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

خالد محمود کھوکھر نے موجودہ نظام کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی انتظامی ضروریات پوری کرنے کے لیے صوبے کو کم از کم 6 سے 10 صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنوبی پنجاب صوبائی بجٹ میں تقریباً 35 فیصد حصہ رکھتا ہے، تاہم عملی طور پر اسے صرف 12 فیصد حصہ مل رہا ہے، جو خطے کی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہے۔

دوسری جانب حسن ابدال میں بھی شہریوں کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ وہاں منعقدہ اجلاس میں مقررین نے مؤقف اختیار کیا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی بروقت فراہمی، انتظامی امور میں بہتری اور ملک کے مختلف علاقوں میں یکساں ترقی کے مواقع یقینی بنانے کے لیے نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ بڑے صوبوں میں انتظامی فاصلے بڑھنے کے باعث دور دراز علاقوں کے شہریوں کو اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لیے طویل سفر اور پیچیدہ سرکاری مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، جس سے عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلہ بھی بڑھتا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ ساتھ مؤثر اور بااختیار بلدیاتی نظام بھی تشکیل دیا جائے تاکہ اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرکے عوام کو اپنے علاقوں میں ہی بنیادی سہولیات اور مسائل کے حل تک رسائی حاصل ہوسکے۔

مقررین کے مطابق انتظامی یونٹس میں اضافے، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے نہ صرف گورننس بہتر ہوسکتی ہے بلکہ ملک کے مختلف خطوں میں ترقی کے یکساں مواقع بھی پیدا کیے جاسکتے ہیں۔