حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): وفاقی دارالحکومت میں کال سینٹرز کے ذریعے مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر مالی فراڈ اور منی لانڈرنگ کا معاملہ ایک بار پھر سامنے آگیا ہے، جہاں تحقیقات کے دوران 172 ارب روپے کی مشتبہ مالی سرگرمیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق تقریباً 2 سال بعد اس اسکینڈل کی تحقیقات دوبارہ شروع کردی گئی ہیں، جبکہ معاملے میں بعض اہم سرکاری افسران کے ممکنہ طور پر ملوث ہونے کے پہلو کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا گیا ہے۔
اس مقصد کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے 9 رکنی نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے، جو کال سینٹرز کے ذریعے ہونے والے مبینہ فراڈ، مالی لین دین اور رقوم کی منتقلی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق 2025 میں کال سینٹرز کے ذریعے جعل سازی اور مالی فراڈ کرنے والے ایک منظم نیٹ ورک کا سراغ لگایا گیا تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ مبینہ طور پر فراڈ کے ذریعے حاصل کی گئی 172 ارب روپے کی رقم کو مختلف ذرائع استعمال کرتے ہوئے بیرون ملک منتقل کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مشتبہ رقوم کی منتقلی کے لیے مختلف بینکوں اور مائیکرو فنانس اکاؤنٹس کا استعمال کیا گیا، جس کے ذریعے رقم کو مختلف مراحل میں منتقل کرکے منی لانڈرنگ کی گئی۔
نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اب اس پورے نیٹ ورک، اس سے وابستہ افراد، مالی لین دین اور ممکنہ سہولت کاروں کے کردار کا تعین کرے گی، جبکہ اہم سرکاری افسران کے ممکنہ کردار کی بھی چھان بین کی جائے گی۔