حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے لاہور میں پیش آنے والے واقعے پر پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا، جس میں واقعے کی صورتحال اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر مشاورت کی جائے گی۔
تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کی جانب سے اسپیکر ہاؤس میں اجلاس طلب کیا گیا ہے، جبکہ تمام ارکان اسمبلی کو آج خیبرپختونخوا اسمبلی پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے لاہور واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں اور ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ ان کے بقول وزیراعلیٰ کے ساتھ روا رکھا گیا رویہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے خیبرپختونخوا اور اس کے عوام کی توہین کے مترادف ہے۔
اسد قیصر نے کہا کہ وزیراعلیٰ لاہور اپنے ایک شہید کارکن کی فاتحہ خوانی کے لیے گئے تھے اور ایک عام شہری سمیت ہر فرد کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور ملک کے اندر آزادانہ نقل و حرکت کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے عوام نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور تحریک انصاف کو مینڈیٹ دیا ہے۔
اسد قیصر کے مطابق کارکن کی گرفتاری کے معاملے پر سہیل آفریدی نے اپنے کارکن کا ساتھ دیا، جس پر انہوں نے وزیراعلیٰ کے مؤقف کو جرات مندانہ قرار دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کسی تھانے کے افسر کو یہ اختیار کیسے حاصل ہوسکتا ہے کہ وہ صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ کے ساتھ اس انداز میں پیش آئے۔
تحریک انصاف کے رہنما نے سہیل آفریدی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک میں جمہوری جدوجہد کی ایک مثال بن رہے ہیں۔
انہوں نے پنجاب پولیس پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ صوبے میں پولیس ایک ریاستی ادارے کے بجائے سیاسی دباؤ کے تحت کام کررہی ہے اور لاہور واقعے نے اس صورتحال کو سب کے سامنے واضح کردیا ہے۔
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی صرف ایک فرد نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے تقریباً 4 سے ساڑھے 5 کروڑ عوام کے منتخب نمائندے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو صوبے کے عوام کی بے توقیری کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
انہوں نے بلوچستان، خیبرپختونخوا اور کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں میں آئین اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہورہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف پرامن سیاسی جدوجہد اور جمہوری طریقہ کار پر یقین رکھتی ہے۔
اسد قیصر نے واضح کیا کہ کسی حکومت یا قانون کے ذریعے سہیل آفریدی کو پنجاب، سندھ یا بلوچستان کے دوروں سے نہیں روکا جاسکتا۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا آئندہ بھی پنجاب کے مختلف شہروں کا دورہ کریں گے اور اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ پنجاب میں اسٹریٹ موومنٹ بھی جاری رکھی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں پارلیمنٹیرینز کا اجلاس کل دوپہر 1 بجے طلب کیا گیا ہے، جس میں لاہور کے واقعے سمیت مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت ہوگی۔
ان کے مطابق اجلاس کے اختتام پر پریس کانفرنس کی جائے گی، جبکہ واقعے سے متعلق ایک قرارداد بھی منظور کیے جانے کا امکان ہے۔ مشاورت مکمل ہونے کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے آئندہ کے مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔