حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
مدینہ منورہ کے قریب یورینیئم کا بڑا ذخیرہ دریافت، سعودی عرب کے ایٹمی منصوبوں پر نئی بحث چھڑ گئی Home / بین الاقوامی /

مدینہ منورہ کے قریب یورینیئم کا بڑا ذخیرہ دریافت، سعودی عرب کے ایٹمی منصوبوں پر نئی بحث چھڑ گئی

ایڈیٹر - 15/09/2026
مدینہ  منورہ کے قریب یورینیئم کا بڑا ذخیرہ دریافت، سعودی عرب کے ایٹمی منصوبوں پر نئی بحث چھڑ گئی

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): سعودی عرب نے مدینہ منورہ کے قریب یورینیئم اور دیگر اہم معدنیات کے بڑے ذخائر کی موجودگی کا اعلان کردیا ہے، جسے مملکت کے توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے ویانا میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی 70ویں جنرل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ مدینہ منورہ کے قریب واقع جبل صاید منصوبے میں ہونے والی ارضیاتی تحقیقات کے دوران تقریباً 110 ملین ٹن خام معدنی مواد کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

ان کے مطابق اس ذخیرے میں مختلف نایاب معدنیات کے علاوہ یورینیئم بھی قابل ذکر مقدار میں موجود ہے، جس کے باعث جبل صاید منصوبہ عالمی سطح پر اہم معدنی وسائل رکھنے والے مقامات میں شامل ہوگیا ہے۔

شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے سعودی عرب کے ایٹمی پروگرام سے متعلق خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مملکت کسی سے الگ تھلگ ہوکر یا پہاڑوں کے اندر خفیہ تنصیبات قائم کرکے ایٹمی پروگرام آگے نہیں بڑھا رہی۔ ان کے بقول سعودی عرب کی پالیسی شفافیت، کھلے پن اور عالمی تعاون کے اصولوں پر مبنی ہے۔

سعودی وزیر توانائی نے توانائی اور معدنی وسائل میں تنوع کو ملکی معیشت کی پائیدار ترقی اور توانائی کی فراہمی کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سیاسی کشیدگی اور تنازعات کے باعث خطے میں توانائی اور دفاعی ترجیحات بھی تیزی سے تبدیل ہورہی ہیں۔ سعودی عرب اپنے ویژن 2030 منصوبے کے تحت تیل پر انحصار کم کرنے اور معیشت کو توانائی کے متبادل ذرائع، جدید صنعت اور معدنی وسائل کی جانب منتقل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

مملکت سویلین ایٹمی توانائی کے شعبے میں بھی اپنی صلاحیتیں بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اس سلسلے میں امریکا اور سعودی عرب کے درمیان رواں سال جولائی میں ایک اہم معاہدہ بھی طے پایا تھا، جس کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب کے سویلین ایٹمی پروگرام کی ترقی میں تعاون کریں گی۔

معاہدے کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ریاض کو اپنی سرزمین پر یورینیئم کی افزودگی کی صلاحیت حاصل ہوسکتی ہے، جس نے سعودی ایٹمی پروگرام کے مستقبل اور اس کے علاقائی اثرات کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

مدینہ منورہ جیسے مذہبی اور تاریخی اعتبار سے انتہائی اہم خطے کے قریب یورینیئم سمیت بڑے معدنی ذخائر کی دریافت سعودی عرب کے لیے محض معاشی اعتبار سے ہی نہیں بلکہ توانائی کی سلامتی اور طویل المدتی تزویراتی منصوبہ بندی کے حوالے سے بھی اہم سمجھی جارہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر ان ذخائر کی تجارتی اور صنعتی سطح پر مؤثر انداز میں ترقی کی جاتی ہے تو سعودی عرب کی معدنی معیشت کو فروغ ملنے کے ساتھ سویلین ایٹمی توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی مملکت کی پوزیشن مزید مضبوط ہوسکتی ہے۔