حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
آبنائے ہرمز پر اہم اجلاس ملتوی، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی نے سفارتی کوششیں روک دیں Home / بین الاقوامی /

آبنائے ہرمز پر اہم اجلاس ملتوی، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی نے سفارتی کوششیں روک دیں

ایڈیٹر - 14/09/2026
آبنائے ہرمز پر اہم اجلاس ملتوی، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی نے سفارتی کوششیں روک دیں

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی ترسیل کے اہم راستوں کو درپیش سکیورٹی خطرات کے باعث ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق اہم سفارتی اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے مؤخر کردیا گیا۔

مسقط میں ہونے والے اجلاس میں آبنائے ہرمز کے راستے بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے اور اس حوالے سے ممکنہ معاہدوں پر تبادلہ خیال کیا جانا تھا، تاہم عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی نے اجلاس ملتوی کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ تمام فریقوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے کیا گیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق وزارت خارجہ کے حکام نے بتایا کہ بعض علاقائی ممالک کی درخواست پر تہران اور مسقط کے درمیان مشاورت کے بعد اجلاس مؤخر کیا گیا ہے، تاہم اس کے انعقاد کے لیے نئی تاریخ جلد مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔

سفارتی سرگرمیوں میں یہ تعطل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں تیل کی ترسیل کے اہم ذرائع شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ سعودی عرب نے ڈرون حملوں کے بعد اپنی تقریباً 1200 کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن تاحال بند کر رکھی ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا میں ڈیزل کی قیمت بھی بڑھ کر تقریباً 6 ڈالر فی گیلن کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے، جبکہ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے خبردار کیا ہے کہ اگر سعودی آئل پائپ لائن کی بحالی میں مزید تاخیر ہوئی تو عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی 4 فیصد تک متاثر ہوسکتی ہے۔

ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کھولنے کے معاملے پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک امریکا تہران کے مطالبات تسلیم نہیں کرتا، ایران اس اہم بحری گزرگاہ کو کھولنے پر آمادہ نہیں ہوگا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ رواں سال کے اختتام تک ختم ہوجائے گی، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔ تاہم ان کے مطابق امریکی فوجی آپریشن کے تمام مقاصد ابھی مکمل نہیں ہوئے۔

اسی دوران سعودی عرب کے جنوبی علاقے جازان میں یمن کے حوثی جنگجوؤں کی بمباری سے مساجد اور رہائشی مکانات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف مزید عسکری معاونت طلب کی ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے بھی واشنگٹن سے رابطہ کرکے امریکا سے یمن کی جنگ سے دور رہنے کی درخواست کی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی، آبنائے ہرمز سے متعلق سفارتی تعطل اور تیل کی ترسیل کو لاحق خطرات نے نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں میں بھی غیر یقینی کی صورتِ حال پیدا کردی ہے۔