واشنگٹن:
دنیا بھر کے ممتاز کمپیوٹر سائنس دانوں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثرات کو انسانی بقا کے لیے جوہری ہتھیاروں کے مساوی بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، عالمی سطح پر اے آئی (AI) کے ممکنہ وجودی خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم امریکی حکومت اس حساس معاملے پر مؤثر قانون سازی اور ضابطہ بندی کے حوالے سے تاحال سست روی کا شکار ہے جس پر ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، 1300 سے زائد نامور کمپیوٹر سائنس دانوں، محققین اور ٹیکنالوجی کے ماہرین نے ایک مشترکہ کھلے خط پر دستخط کیے ہیں، جس میں عالمی حکومتوں اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی موجودہ بے ہنگم رفتار کو فوری طور پر سست کریں۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس شعبے کے لیے سخت ترین حفاظتی ضابطے اور اخلاقی حدود متعارف کرائی جائیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی بڑے انسانی یا سیکیورٹی بحران سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب، ان سنگین انتباہات کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ تاحال اس معاملے پر کسی ٹھوس قانون سازی سے گریزاں ہے۔ امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کا موقف ہے کہ مصنوعی ذہانت سے وابستہ خدشات اور خطرات منفی قوتوں کی مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ جو ملک بھی اس جدید ترین ٹیکنالوجی کے شعبے میں سبقت حاصل کرے گا، دنیا پر اسی کی سٹریٹجک اور اقتصادی برتری قائم رہے گی، اس لیے ترقی کی رفتار کو روکنا امریکی مفادات کے منافی ہو سکتا ہے۔
ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ضابطہ بندی میں تاخیر کے نتیجے میں خودکار ہتھیاروں، سائبر حملوں اور بڑے پیمانے پر غلط معلومات کے پھیلاؤ جیسے خطرات بے قابو ہو سکتے ہیں۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا وائٹ ہاؤس سائنسی برادری کے ان مطالبات کو تسلیم کرتا ہے یا عالمی برتری کی دوڑ میں اس انتباہ کو پسِ پشت ڈال دیا جائے گا۔