حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایک نئے بحری انتظام پر علاقائی ممالک کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ عمان میں ہونے والے اہم اجلاس کے دوران ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والے فریم ورک کی تفصیلات اور مجوزہ بحری راستے کے نقشے بھی شریک ممالک کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق عمان میں ہونے والے اجلاس میں متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے، جہاں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارتی ٹی وی چینل انڈیا ٹوڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ تہران اور مسقط آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک مخصوص فریم ورک پر اتفاق کرچکے ہیں۔ ان کے مطابق عمان میں ہونے والی مشاورت میں عرب ممالک کو بھی اس پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا، جس کے بعد عالمی میری ٹائم ادارے کو بھی صورتحال سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں گی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی تصدیق کی تھی کہ عمان علاقائی ممالک کے نمائندوں پر مشتمل اجلاس کی میزبانی کرے گا، جس میں خلیج کے 8 ممالک بھی شریک ہوں گے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ اگر امریکا اپنے حملے روک دیتا ہے تو آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی قوانین کے تحت بحری آمدورفت کی آزادی بحال کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، روس یا چین سمیت کسی پڑوسی ملک سے کوئی تنازع نہیں، بلکہ تہران کا اعتراض خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر ہے، جنہیں ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جانے کا الزام ہے۔
ایرانی صدر نے علاقائی ممالک پر زور دیا کہ وہ بیرونی طاقتوں کو خطے میں اختلافات پیدا کرنے کا موقع دینے کے بجائے امن و سلامتی کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیں۔
عالمی اقتصادی نظام پر گفتگو کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ برکس اور نیو ڈیولپمنٹ بینک آزاد تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے ذریعے امریکی معاشی دباؤ اور پابندیوں کا مقابلہ کرنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان کے بقول اس عمل سے رکن ممالک کا امریکی معیشت اور ڈالر پر انحصار کم ہوگا اور کثیر القطبی عالمی نظام کی تشکیل میں مدد ملے گی۔
ایرانی صدر نے اپنے ملک کے جوہری پروگرام پر عائد الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا اور این پی ٹی کی پاسداری کررہا ہے۔ انہوں نے عالمی قوانین کے دائرے میں مذاکرات کے لیے آمادگی کا اظہار بھی کیا۔
مسعود پزشکیان نے ایرانی اعلیٰ قیادت، سائنس دانوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خوراک، ادویات اور تجارت پر پابندیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم فوجی دباؤ یا پابندیوں کے سامنے سرنڈر نہیں کرے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ عمان کے ساتھ طے پانے والے فریم ورک کا یہ مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے لیے ایران چاہتا ہے کہ امریکا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ تہران کے نزدیک خطے کی سلامتی اور استحکام کی بنیادی ذمہ داری علاقائی ممالک پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عمان میں ہونے والی بات چیت مستقبل میں خطے کے ممالک کے درمیان مشترکہ مفادات سے متعلق مزید مشاورت کی بنیاد بنے گی۔