حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پیٹرولیم لیوی ختم کرانے کے لیے 20 ستمبر کو اسلام آباد آنے کا اعلان، حافظ نعیم الرحمان Home / سیاست /

پیٹرولیم لیوی ختم کرانے کے لیے 20 ستمبر کو اسلام آباد آنے کا اعلان، حافظ نعیم الرحمان

ایڈیٹر - 13/09/2026
پیٹرولیم لیوی ختم کرانے کے لیے 20 ستمبر کو اسلام آباد آنے کا اعلان، حافظ نعیم الرحمان

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کو جماعت کا حتمی مطالبہ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مطالبہ تسلیم نہ ہونے کی صورت میں 20 ستمبر کو ملک کے مختلف علاقوں سے کارکن اسلام آباد پہنچیں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام پیٹرولیم لیوی کو ’’بھتا ٹیکس‘‘ قرار دے رہے ہیں، اس لیے حکومت کو ہر صورت یہ اضافی بوجھ ختم کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی نے حکومت کے سامنے قابلِ عمل تجاویز پیش کی ہیں، جن میں شرح سود میں 3 فیصد کمی بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شرح سود کم کرکے حکومت تقریباً 1700 ارب روپے کی بچت کرسکتی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے سوال کیا کہ اگر اس اقدام سے اتنی بڑی رقم بچائی جاسکتی ہے تو شرح سود کم کرنے سے گریز کیوں کیا جارہا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ ان کی جماعت اپنے مطالبات سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ان کے مطابق ملک کے 36 شہروں میں دھرنے جاری ہیں اور 20 ستمبر کو اسلام آباد کا رخ کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مذاکرات کے معاملے پر ٹال مٹول سے کام لیا تو جماعت اسلامی بات چیت کا سلسلہ ختم کردے گی۔

آئی پی پیز کے معاہدوں پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر یہ معاہدے عوام کے سامنے لائے جائیں تو پوری قوم ان پر سوال اٹھائے گی۔ ان کے بقول حالات جیسے بھی ہوں، بجلی کے بلوں میں کیپسٹی چارجز مسلسل وصول کیے جارہے ہیں اور اس معاملے میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف بھی ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بڑی سیاسی جماعتیں آئی پی پیز کے معاملے کو حل کرنے میں اس لیے ناکام ہیں کیونکہ ان کے اندر بااثر مفاداتی عناصر موجود ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے سیاسی روابط کے حوالے سے کہا کہ اگر تحریک انصاف نے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تو جماعت اسلامی ضرور شریک ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بانی تحریک انصاف عمران خان کو سیاسی قیدی سمجھتی ہے جبکہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے ساتھ بھی ان کے رابطے قائم ہیں۔